بلوچستان: پرتشدد واقعات میں تین افراد ہلاک

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلح افراد نے سیکورٹی گارڈز کو ہلاک کیا جبکہ ڈرائیور کو چھوڑ دیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے دو واقعات میں ایک چینی کمپنی کے دو پاکستانی سکیورٹی گارڈز سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔

سیکورٹی گارڈز کی ہلاکت کا واقعہ ضلع گوادر میں پسنی کے علاقے کلانچ میں پیش آیا۔

پسنی میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ کلانچ اور اس کے گردونواح میں ایک چینی کمپنی تیل اور گیس کی تلاش کا کام کررہی ہے۔

ان ذرائع نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے کمپنی کے تین پاکستانی اہلکاروں کو اغوا کیا تھا۔

اغوا کیے جانے والوں میں ایک ڈرائیور اور دو سیکورٹی گارڈز شامل تھے۔

مسلح افراد نے سیکورٹی گارڈز کو ہلاک کیا جبکہ ڈرائیور کو چھوڑ دیا۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ ڈرائیور کا تعلق گوادر سے ہے جبکہ سیکورٹی گارڈز کا تعلق دوسرے صوبوں سے تھا۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔

گوادر ایران سے متصل بلوچستان کا ساحلی ضلع ہے جو کہ انتظامی طور پر مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے گوادر سمیت مکران ڈویژن کے دیگر علاقوں میں کمی و بیشی کے ساتھ بد امنی کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔

ایک اور شخص کی ہلاکت ضلع نصیر آباد میں بارودی سرنگ پھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

نصیرآباد میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ضلع کے علاقے پھلیجی میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ نصب کی تھی ۔

بارودی سرنگ اس وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک موٹر سائیکل اس سے ٹھکرا گئی ۔

دھماکے کی وجہ سے موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

نصیر آباد ڈیرہ بگٹی سے متصل ضلع ہے ۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے نصیر آباد کے ڈیرہ بگٹی سے متصل سرحدی علاقوں میں بارودی سرنگ کے دھماکوں کے علاوہ بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں