جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ کا عہدہ منگل کو سنبھال لیں گے

جنرل قمر جاوید باجوہ
Image caption جنرل قمر جاوید باجوہ اس سے قبل سنہ 2014 میں دھرنے کے دوران کور کمانڈر راولپنڈی رہ چکے ہیں

پاکستان کی بری فوج کے نامزد کیے جانے والے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ منگل کو اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیں گے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے گزشتہ روز جنرل راحیل شریف کی جگہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو بری فوج کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ہے۔

سنیچر کو وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر پاکستان ممنون حسین نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے۔

جنرل راحیل کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے الوداعی ملاقاتیں شروع

نیا فو جی سربراہ کون ہو گا؟

بیان کے مطابق ترقی کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو بری فوج کا نیا چیف اور جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کردیا گیا۔

وزیراعظم محمد نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل زبیر محمود حیات سے وزیراعظم ہاؤس میں علیحدہ علیحدہ ملاقات بھی کی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل زبیر محمود حیات 29 نومبر سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور اسی روز موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کیا گیا ہے

جنرل قمر جاوید باجوہ

جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ میں اکتوبر 1980 میں کیا تھا۔ وہ کینڈا اور امریکہ کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری سکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فراض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔

وہ راولپنڈی کی انتہائی اہم سمجھی جانے والی 10 ویں کور کو بھی کمانڈ کرچکے ہیں۔

نئی تعیناتی سے قبل وہ انسپکٹر جنرل تھے جی ایچ کیو میں جنرل ٹرینگ اور ایولیوشین کے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں اُن تربیتی مشقوں کی خود نگرانی کی جو لائن آف کنٹرول کے اطراف کشیدگی کی وجہ سے کی جا رہی تھیں۔ اِن مشقوں کا معائنہ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل نے خود کیا تھا۔

جنرل زبیر محمود حیات

دوسری تیعناتی جنرل زبیر محمود حیات کی ہے بطور چیرمین جائنٹ چیف آف سٹاف اور ان کا بھی وہی بیج تھا جو باجوہ کا تھا یعنی انیس سو اسی میں فوج میں شمولیت۔ وہ بھی امریکہ، برطانیہ سے فوجی کالجوں سے پڑھے ہوئے ہیں۔ کئی اہم ترین فوجی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

آرمی چیف کے پرآیوٹ سکرٹری کے علاوہ وہ جوہری اثاثوں کی دیکھ بحال کرنے والے سٹریٹیجک پلان ڈویژن کے بھی ڈائریکٹر جنرل رہ چکے ہیں۔ آرٹلری ریجمنٹ کی کمان بھی کرچکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں