راحیل شریف کیوں ہیرو ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنرل راحیل شریف عوام میں بہت مقبول ہیں

میرے خیال میں تو جنرل راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے پہلے دن سیدھا کراچی پریس کلب آنا چاہئے جس کی دیوار کے ساتھ ایک سابق لیبر لیڈر لطفِ عمیم شبلی گذشتہ بیس دن سے بستر بچھائے ’تادمِ مرگ بھوک ہڑتال‘ پر لیٹے ہیں۔ شبلی صاحب کا عزم ہے کہ اگر جنرل صاحب ملک و قوم کے عظیم مفاد کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تو میں اپنی جان دے دوں گا۔ کم ازکم ایک شربت کا گلاس بدستِ راحیل شریف اس 'خودکش' پرستار کا حق تو بنتا ہے۔

بلاشبہہ پاکستان میں راحیل شریف کے پرستار بے شمار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا ایک سبب آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل عاصم باجوہ ہوں جنہوں نے اپنے صاحب کی شخصیت اور کام بلکہ ہر لمحے کو کبھی بھی ٹویٹر، سوشل میڈیا کی آنکھ اور ٹی وی چینلوں کی سکرینز سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔

ممکن ہے جنرل (ریٹائرڈ ) اشفاق پرویز کیانی سوچتے ہوں کہ میں نے بھی تو سوات، جنوبی وزیرستان اور باجوڑ وغیرہ کو دہشت گردی سے پاک کیا تھا۔ کاش میرے پاس بھی کوئی باجوہ ہوتا۔

امیج بلڈنگ کی سائنس کیا فرق پیدا کرتی ہے اس پر لمبی بحث ہو سکتی ہے۔مگر سچی بات تو یہ ہے کہ راحیل شریف کا جب بھی ذکر ہوگا شمالی وزیرستان کی ضربِ عضب مہم اور کراچی میں امن کا قیام بھی اس ذکر سے جڑا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راحیل شریف کی حمایت میں جلوس بھی نکالے گئے

ہم میں سے بعض یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو کسی بھی سپاہ سالار کا فرض ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کے اندر اور باہر بیرونی یا اندرونی جارحیت کو جڑ سے اکھاڑنے کا کام بے جگری سے کرے ۔اسی لیے تو اسے سپاہ سالار بنایا جاتا ہے۔اب اگر وہ اپنے فرائص منصبی پوری تندہی سے انجام دیتا ہے تو اس میں غیر معمولی بات کیا ہوئی ؟

مگر یہ فارمولا ان ممالک کے لیے تو درست ہے جہاں منٹگمری، میک آرتھر اور جنرل گیاپ جیسے ہیرو پیدا ہوتے ہیں ۔ قوم ان کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے اور نصابی کتابوں میں ان کی جنگی حکمتِ عملی دوام پا جاتی ہے۔یہ ہیرو اپنی ریٹائرمنٹ انجوائے کرتے ہیں اور کوئی مطالبہ نہیں کرتا کہ میک آرتھر صاحب چونکہ آپ نے جاپان کو ہرا دیا لہذا آئیے وائٹ ہاؤس میں براجمان ہوجائیے۔گیاپ صاحب چونکہ آپ نے امریکیوں کو ویتنام سے رسوا کرکے نکالا لہذا آپ ہی فیصلہ کیجیئے کہ اب ویتنام کو کس سمت میں جانا ہے۔ایسا اس لیے نہیں ہوتا کہ جہاں منٹگمری ، گیاپ اور میک آرتھر پیدا ہوئے وہاں فوج سمیت تمام ادارے تندہی سے اپنے فرائص بجا لانے کی کوشش کرتے ہیں اور سب کا دائرہِ کار و اختیار واضح طور پر طے ہوتا ہے۔

مگر پاکستان جیسے ممالک جہاں پچھلے ستر برس میں کوئی بھی ادارہ ایسا نہ بن پایا جس پر انگلی نہ اٹھی ہو وہاں نظام کی ناکامی کا ازالہ ہیروز سے امید باندھ کے کرنے کی کوشش ایک قدرتی عمل ہے۔ بھلے وہ بھٹو ہو کہ راحیل شریف۔

قیامِ پاکستان کے بعد شروع کے چند برس تک یہ بھی تھا کہ چپراسی سے لے کے صدرِ مملکت تک تقریباً ہر کوئی اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ اپنا فرضِ منصبی بجا لانے کو نارمل بات سمجھتا تھا اور اگر تذکرہ ہوتا تھا تو ان لوگوں کا جو کام چور، نکھٹو، راشی، اقربا پرور جانے جاتے تھے۔

مگر آج سماج کی صورتِ زوال یہ ہے کہ اگر کسی عام سے سرکاری دفتر میں بیٹھی فوجِ ظفرِ موج کا کوئی ایک کلرک بھی پوری ایمانداری و تن دہی سے اپنے فرائصِ منصبی انجام دے تو اسے آٹھواں عجوبہ سمجھ کے احترام دیا جاتا ہے۔حالانکہ وہ بے چارا تو اپنے تئیں محض اپنا رزق حلال کر رہا ہوتا ہے۔

اب اس کینوس کو ذرا بڑا کر لیجئے۔جہاں زیادہ تر سیاستداں صرف باتوں کے خربوزے کھلا رہے ہوں، جہاں ٹیکس چور عزت پا رہے ہوں ، جہاں ڈاکٹر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنٹ بن چکے ہوں، جہاں ٹھیکیدار کا بس نہ چل رہا ہو کہ وہ کم سے کم بجٹ خرچ کرکے ریت کا پل اٹھا کے زیادہ سے زیادہ پیسے بچا لے۔جہاں احستاب کا عمل بھی کالے اور سفید کے امتیاز پر کھڑا ہو۔جہاں مجرم عدالت کی جانب سے بری ہونے سے پہلے ہی پھانسی چڑھ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راحیل شریف کے تین برس میں عام تاثر یہی تھا کہ فوج اور سیاسی قیادت کے تعلقات میں کشیدگی ہے

وہاں ستائے ہوئے لوگوں کو ایک ایسا ہیرو چاہئے جو پلک جھپکتے میں چھڑی گھمائے اور سب سیدھا ہوجائے۔ اور لوگوں کو یہ ہیرو راحیل شریف کی شکل میں نظر آیا ۔راحیل شریف بھی سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنا پیشہ ور فرض نبھانے کے سوا اور ایسا کیا کیا کہ خلقت دیوانی ہو گئی ۔

ہاں راحیل شریف ہیرو ہیں اور اپنی تین سالہ مدت کے اختتام پر قوم کی توقیر سمیٹنے کے بعد پاکستانی دیومالا میں ایک سپر ہیرو کے استھان پر بھی براجمان ہو چکے ہیں۔ راحیل شریف تین سال کے دوران جو کر سکتے تھے کیا۔ اب اگلے چیف سے کچھ بنیادی توقعات ہیں تاکہ گذشتہ کام ضائع نہ جائے۔

مثلاً ایسی سیاسی قیادت کے لیے سپیس چھوڑنا جو اعتماد کے ساتھ علاقائی و خارجہ پالیسی وضع کر سکے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب سیاست کو محبِ وطن اور غیر محب ِ وطن کی زنجیریں پہنانے کے بجائے انہیں بھی ' وسیع تر ملکی مفاد` کے فیصلے کرنے کے لیے ضروری گنجائش دی جائے۔ ورنہ انہیں ادارہ سازی کی تربیت کہاں سے ملے گی؟

مثلاً یہ کہ دہشت گردوں کو گننے کی عادت اپنائی جائے انہیں تولا نہ جائے۔ جن تنظیموں نے پاکستان کے خلاف اعلانِ جنگ کر رکھا ہے وہ تنظیمیں دشمن بننے سے پہلے محبِ وطن ہی سمجھی جاتی تھیں۔اگر تب یہ نہ ہوتا تو اب یہ نہ ہوتا۔

ملک کے اندرونی و بیرونی تحفظ کا کام آئین کے تحت قائم عسکری و نیم عسکری اداروں کی ذمہ داری تھی، ہے اور رہے گی۔ لہذا حب الوطنی کی نجکاری کے ستر برس سے ناکام تجربے کو خدا حافظ کہنا ہی انتشار اور کنفیوژن سے بچنے کا بہترین نسخہ ہے۔

اور یہ کہ تنقید اور ملک دشمنی میں واضح فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔سوال اٹھانے کی آزادی سے ہی جوابی نظرئیے ( کاؤنٹر نیریٹو ) کی ایسی دیوار کھڑی ہوتی ہے جو نہ صرف فیصلہ سازی کو قدرتی طور پر راہِ راست پر رکھتی ہے بلکہ انتہا پسند خیالات کے سامنے بھی بند باندھتی ہے۔لہذا سوال سے ڈرنے کے بجائے سکوت سے ڈرئیے۔سکون کی خاموشی اور قبرستان کی خاموشی میں تمیز سیکھئے ۔سوال آپ کا ساتھی ہے ۔اسے کچلنے والے ہاتھی نہ سمجھئے۔

جو لوگ ضیا الحق سے سخت الرجک تھے وہی لوگ راحیل شریف سے محبت بھی کرتے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ عوام بچے نہیں ہوتے۔کام بولتا ہے اور ناکامی کام سے زیادہ بولتی ہے۔

حالانکہ یہ کام آرمی چیف کے رسمی فرائض میں شامل نہیں مگر پاکستان بھی تو کوئی نارمل ملک نہیں۔

میرے کوزہ گر کوئی ورد کر میرے حال پر اب کرم بھی ہو

مجھے شکل کوئی عطا تو ہو، مجھے گھومنے کا صلہ ملے