کراچی اور قبائلی علاقوں میں کامیابی، بلوچستان میں ناکامی

راحیل شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنی ملازمت کی تین سالہ مدت پوری کرنے کے بعد ذمہ داری نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ رہے ہیں۔ ماضی میں متعدد جرنیلوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے واقعات کی وجہ سے جنرل راحیل شریف کے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا ’گزشتہ کئی سالوں میں صرف دو جرنیلوں نے فوج پر راج کیا جس کی وجہ سے فوجی افسروں کی ایک پود پھل پھول نہیں سکی۔ اہم قومی ادارے یعنی پاکستانی فوج کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے افسروں کی ترقی کا راستہ روکنے کی بجائے انھیں مزید مواقع فراہم کرے اور یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کا وقت پر ریٹائر ہونے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔‘

جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف سخت موقف اپنایا جس کے لیے ان کا کردار مثبت اور اہم رہا مگر انھوں نے ایسے اقدامات بھی لیے جن سے یہ ثاثر گہرا ہوا کہ فوج پس منظر میں رہ کر سیاسی ڈوریں ہلاتی رہی ہے اور اسے براہ راست سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے کی ضرورت نہیں۔‘

اس سلسلے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیئر صحافی عمر فاروق نے کہا ’جنرل راحیل شریف کا پاکستان کے سیاسی نظام پر مسلسل اثرو رسوخ رہا۔ ’جنرل راحیل شریف کی جانب سے بدعنوانی کے خاتمہ سے متعلق بیانات آنا یا جی ایچ کیو کی جانب سے سیاسی حالات پر پریس ریلیز کے ذریعے تبصرہ کرنا کھلے عام عوام سے متعلق پالیسی میں دخل اندازی دینے کے مترادف ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’جنرل راحیل شریف کے سیاسی کردار کا انذازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنی الودعی ملاقاتوں میں بھی وہ بلوجستان کے وزیر اعلیٰ سے ملتے ہیں، کراچی میں وہ کاروباری برداری کے ساتھ ملے۔ ایک آرمی چیف آف سٹاف کاروباری شخصیات سے ملاقات میں کیا کہتے ہوں گئے؟"

ملک کے چاروں کونوں میں انتہاپسندی سے نمنٹے کی ذمہ داری فوج کے پاس ہونے کی وجہ سے بھی جنرل راحیل شریف ایک ہائی پروفیل شخصیت رہے۔ پاکستان میں فوج براہ راست 37 برسں تک اقتدار پر براجمان رہی جس کی وجہ سے سول سکیورٹی اداروں کو فعال بنانے میں ناکامی رہی ۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ فوج کے بغیر سویلین حکومت کے لیے سیکورٹی سنھبالنا ناممکن ہو گیا ہے۔‘

تاہم جہاں قبائلی علاقوں اور کراچی میں سیکورٹی کی صورت حال قدرے بہتر ہوئی ہے وہیں بلوچستان میں بدامنی اور سرحدوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں جنرل راحیل شریف کو ناکامی کا سامنا رہا۔

اس سلسلے میں عمر فاروق نے کہا ’بلوچستان مکمل فوج کے زیر اثر ہے، چاہے پولیس ہو یا صوبائی حکومت ان کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر میں صوبے کی سیکورٹی ناقص رہی۔ اب بھی بعض انتہا پسندوں کو کھلی چھٹی دی جا رہے ہے۔ ‘

انھوں نے کہا ’ایک طرف جنرل راحیل شریف نے سرحدوں کو محفوظ بنانے کے بڑے بڑے دعوے کیے مگر جب بھی کوئٹہ میں حملہ ہوا تو انھوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور سرحد پار یعنی افغانستان سے آئےتھے۔ ان کے اپنے ہی بیانات میں تضاد ان کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔‘

پاکستان میں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ملک کی خارجہ پالسی میں فوج کا اثر و رسوخ انتہائی زیادہ ہے۔ بعض ماہرین کے بقول اس سلسلے میں جنرل راحیل شریف کی میراث پر ایک اور دھبہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی ہے۔

اس سلسلے میں مشرف زیدی کہتے ہیں ’یہ فوج کا کام نہیں کہ وہ خارجہ پالسی ترتیب دے تاہم سیاسی حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے فوج خارجہ پالسی میں مداخلت کرتی آئی ہے۔‘

تاہم اس کے برعکس عمر فاروق کہتے ہیں ’فوج کے سیاسی کردار کی وجہ سے ہی وہ خارجہ پالسی پر بھی حاوی رہتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنی انتحابی مہم اور پھر وزیر اعظم بنبے کے بعد بھارت سے تعلقات میں بہتری کی خواہش کھلے عام کی مگر جنرل راحیل شریف کی نگرانی میں فوج نے اس پر کان نہیں دہرے اور آج دو طرفہ تعلقات مسلسل تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔"

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ڈان کی جانب سے ایک سیکورٹی میٹینگ کی مبینہ تفصیلات افشا کیے جانےکے باعث سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان بظاہر پائے جانے والے تناؤ کے پیش نظر نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ غیر سیاسی رہتے ہوئے اپنے فوجی فرائض سرانجام دے پائیں گیے؟