خواجہ سراؤں کو بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کی درخواست پر نوٹس جاری

لاہور ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ lahore high court

لاہور ہائیکورٹ نے خواجہ سراؤں کو تدفین کے لیے قبرستان میں جگہ کی فراہمی سمیت دیگر بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست پر وفاقی حکومت، نادرا اور ادارے شماریات کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

خواجہ سراؤں کے عمرے پر پابندی، معاملہ سینیٹ کمیٹی کے سپرد

’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کے حلاف مقامی خواجہ سرا وقار علی نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے اور ایک درخواست کے ذریعے یہ استدعا کی ہے کہ دیگر شہریوں کی طرح ان کو بھی بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

سماعت کے دوران شیزار ذکا ایڈووکیٹ نے دلائل دیے اور نشاندہی کی خواجہ سرا بنیادی حقوق سے محروم ہیں جس کی وجہ ان کو زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل شیزار ذکا نے انکشاف کیا کہ قبرستان میں جگہ نہ ملنے کی وجہ خواجہ سراؤں کو تدفین میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

وکیل کے مطابق خواجہ سراؤں کی آخری رسومات کی ادائیگی کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ ان کی آخری رسومات ادا کے لیے کوئی حامی نہیں بھرتا۔

وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ خواجہ سراؤں غیر انسانی کے ساتھ تشدد کا نشانہ بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وکیل کے مطابق خواجہ سراؤں کو ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے مناسب زندگی بھی گزرنا مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption خواجہ سراؤں کا اپنے حقوق کے حق میں احتجاج

درخواست گزار خواجہ سرا کے وکیل نے دعوٰی کیا کہ اب تک ہونے والی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو آبادی میں شمار نہیں کیا گیا۔

شیزار ذکا ایڈووکیٹ نے آئین کی دفعات کا حوالہ دیا اور موقف اختیار کیا کہ جس طرح دیگر شہریوں کے بینادی حقوق ہیں اسی طرح خواجہ سرا بھی بینادی حقوق کے حق دار ہیں۔

وکیل نے استدعا کی کہ وفاقی حکومت کو خواجہ سراؤں کی فلاح و بہبود کے قانون سازی کرنے اور بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔

خواجہ سرا کے وکیل نے یہ بھی استدعا کی کہ شناختی کارڈ میں خواجہ سراؤں کی جنس کے لیے نیا خانہ متعارف کرایا جائے۔

اسی بارے میں