’کچی دیواروں پر پاؤں نہ جمائیں‘

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر تحريک انصاف نے 2006 سے پہلے سے وزیرِ اعظم نواز شریف کے خاندان کا تعلق آف شور کمپنيوں سے ثابت کر ديا تو بوجھ شریف خاندان پر پڑ جائے گا۔

بدھ کے روز اسلام آباد میں سپريم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے روبرو پاناما پيپرز کيس کی سماعت کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کے سامنے مریم نواز اور حسن نواز کے ٹی وی انٹرویز کا حوالہ پیش کیا تو جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اخباری تراشوں کو لا کر سونے میں کھوٹ کیوں ڈال رہے ہیں؟ 'کچی دیواروں پر پیرنہ جمائیں۔'

انھوں نے مزید کہا: ’عدالت ضرورت کے مطابق مخلتف کیسوں میں اخبارات کی خبروں کا حوالہ قبول کرتی ہے لیکن یہ نازک معاملہ ہے، سیاسی منظرنامے میں سب ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے اور انکار بھی کر دیتے ہیں اِس معاملے میں ذرائع ابلاغ کا حوالہ کافی نہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے وکیل نے قطری شہزادے کے خط پر دلائل دیے تو سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے ريمارکس ميں کہا کہ تحريری جواب اور وزيراعظم کی قومی اسمبلی میں تقاریر میں تضاد ہے۔

عدالت نے تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری سے، جو حامد خان کی جگہ کیس کی پیروی کر رہے ہیں، کہا کہ وہ منگل کے روز اپنے دلائل مکمل کریں اور اِسی کے ساتھ ہی مقدمے کی سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کر دی۔

نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف نے دبئی فيکٹری کا کہیں ذکر نہيں کیا، جسٹس عظمت سعيد نے کہاکہ يہ نہيں بتايا گيا کہ جدہ میں لگائی جانے والی سٹیل مل کا پيسہ کہاں سے آيا، لندن فلیٹس کے لیے رقم کيسےاستعمال ہوئی؟‘

انھوں نے کہا کہ ’دستاویزات اورجگہ ہوں گی لیکن عدالت میں نہیں ہیں۔‘

تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جب عدالت میں قطر سے آنے والے خط پر دلائل دیے اور اُسے پڑھنے کی اجازت طلب کی تو عدالت نے کہا کہ اگر يہ تصدیق شدہ نہیں تو اسے کيوں ديکھيں۔

آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد جب عدالت کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اکرم شیخ نے کہا کہ میں وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کا وکیل ہوں، طارق شفیع کی نمائندگی نہیں کر رہا۔ انھوں نے کہا: 'میں نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے کاروبار اور منی ٹریل کے حوالے سے جواب دیا ہے۔‘

اکرم شیخ نے کہا کہ آج نعیم بخاری نے انھیں طارق شفیع اور ایک اور نئی کمپنی جو غالباً انگلش کمپنی ہے، اس کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔ عدالت نے اس کے جواب میں کہا کہ ’پہلے نعیم بخاری اپنے دلائل مکمل کر لیں، پھر اکرم شیخ کا موقف بھی سنا جائے گا۔‘

نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز وزیرِ اعظم کی زیرِ کفالت ہیں اور لندن کے لفیٹس کی بینیفشل اونر ہیں، جبکہ وزیر اعظم کے صاحبزادے کا نیشنل ٹیکس نمبر یا این ٹی این ہی نہیں ہے۔

سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ساری باتیں عدالت میں ہوں گی تو کمیشن کے لیے کیا بچے گا؟ اسد منظور بٹ نے درخواست کی کہ عدالت فریقین کو حکم دے کہ وہ کیس مختصر کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں