’افغانستان میں قیام امن کے لیے کردار ادا کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا اور افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

جمعرات کو دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستانی وفد آئندہ ہفتے انڈیا میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے گا۔

٭ 'انڈیا سے بات چیت کرنا ہماری طاقت ہے کمزوری نہیں'

امرتسر میں ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستانی وفد مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں شرکت کرے گا۔

ترجمان نے کہا 'انڈیا نے سارک کے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے گا کیونکہ یہ کانفرنس افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔'

اس سے پہلے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ پاکستان انڈیا کے ساتھ غیرمشروط مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے چار ملکی مصالحتی گروپ کے رکن کی حیثیت سے 'جب بھی پاکستان سے کہا گیا وہ اپنا کردار ضرور ادا کرے گا۔'

انھوں نے افغانستان کے چیف ایگزیٹو عبداللہ عبداللہ کے دورہِ پاکستان تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی آمد کی حتمی تاریخ کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلے ہی دن سے موقف رہا ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے وہ ہر فورم پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس سے پہلے مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور اُن سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے بارے میں بریفنگ لی۔

مشیرِ خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں سوال کے جواب میں ترجمان نے تفصیلات بیان نہیں کیں۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے انڈیا کے ساتھ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔

ترجمان نے واضع کیا کہ ' ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں انڈیا سمیت کسی بھی ملک کے وفد کے ساتھ سائیڈ لائن ملاقاتیں طے نہیں ہوئی ہیں۔'

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ امریکہ سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ یہ تعلقات مزید مستحکم ہوں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی خواہش پر تصفیہ طلب مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں