ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت چوبیسویں بار ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شکیل آفریدی کو جو تینتیس سال کی سزا سنائی گئی ہے

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے اور اب سماعت کے لیے نو فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اس مقدمے کی سماعت چوبیس مرتبہ ملتوی کی جا چکی ہے۔

جمعرات کو نظرثانی کی درخواست پر سماعت فاٹا ٹریبیونل میں ہونا تھی لیکن سرکاری وکیل حاضر نہیں ہوئے جس وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔

شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکاری وکیل حاضر کیوں نہیں ہوئے لیکن اب یہ سماعت لگ بھگ ایک ماہ اور نو دن کے بعد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ آئندہ سماعت میں اس میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔

جمعرات کو سماعت کے لیے شکیل آفریدی کے بھائی بھی ٹریبیونل نہیں آئے تھے۔ قمر ندیم کے مطابق ٹریبونل فریقین کو موقع دیتے ہیں تاکہ دونوں جانب کے وکلا موجود ہوں پھر سنوائی شروع کی جائے۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ان کے مقدمے کی سماعت ملتوی کی گئی ہے بلکہ شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم ایڈووکیٹ کے مطابق جون 2014 میں یہ نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں جمع کی گئی تھی اور اب تک چوبیس مرتبہ یہ تاریخ ملتوی کی جا چکی ہے۔ اس سے پہلے سماعت اس وجہ سے متلوی کر دی جاتی تھی کیونکہ فریقین اس مقدمے کا تمام ریکارڈ پیش نہیں پا رہے تھے۔

فاٹا ٹریبیونل میں اپیل دائر کرنے کے بعد ٹریبیونل کے ارکان کے تقرر میں تاخیر کی وجہ سے ملتوی ہوتی رہی اور پھر جب ٹریبیونل تشکیل دے دیا گیا اس کے بعد ٹریبیونل نے حکم دیا تھا کہ پولیٹکل انتظامیہ اس مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش کرے۔

قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی تھی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی جبکہ ان کا موقف تھا کہ شکیل آفریدی کو جو 33 سال کی سزا سنائی گئی ہے یہ ساری سزا ختم کی جائے۔

اس درخواست میں انھوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور کمشنر پشاور ڈویژن کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔

قمر ندیم کے مطابق سرکار کی جانب سے بھی کمشنر کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شکیل آفریدی کی تینتیس سال کی سزا برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر بظاہر یہ الزام عائد تھا کہ وہ امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے لیکن خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیکل ایجنٹ کی جانب سے انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام پر دی گئی۔

اسی بارے میں