سکیورٹی اہکاروں نے جانی خیل میں استاد کا گھر ’مسمار‘ کر دیا

پاکستان سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عوامی نینشل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی سرحد پر واقع جانی خیل میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک استاد کا مکان مسمار کردیا۔

سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مکان کو مسمار کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

اطلاعات کے مطابق انگریزی کے استاد محمد اسحاق کے چچا اور ان کے ایک دوسرے رشتہ دار کے مکان کے ایک ایک کمرے کو بھی مسمار کیا گیا۔

مقامی افراد نے بتایا کہ بنوں میں تعینات محمد اسحاق وزیر کے چھ کمروں کا مکان گذشتہ روز مسمار کیا گیا۔

ان کے مطابق پہلے مکان کو آگ لگائی گئی پھر اسے مشینوں سے مسمار کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جمعرات کو خبریں شائع ہوئیں۔

عوامی نینشل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ چند روز پہلے اس علاقے میں ایک ریٹائرڈ صوبیدار اور امن کمیٹی کے رکن کو نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

محمد اسحاق کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک ترقی پسند انسان ہیں اور شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے بچوں کو پڑھانے کے لیے انھوں نے باچا خان فری ٹیوشن اکیڈمی بھی قائم کی تھی جس کے لیے سرکاری سطح پر بھی ان کی معاونت کی گئی تھی۔

جنوبی وزیرستان میں گذشتہ ماہ سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد اسی علاقے میں ایک مارکیٹ بھی منہدم کر دی گئی تھی۔

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ٹانک میں گذشتہ ماہ محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے طلبا اور نوجوانوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ جہاں کہیں دھماکہ ہو جاتا ہے تو وہاں مکان مسمار کر کے لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔

انھوں نے اس قسم کی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا۔