پاکستان میں جائیداد کے ذریعے کالا دھن سفید کرنے کا قانون منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی اسمبلی میں انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2016 کے تحت یہ بل پاس کیا گیا ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک قانون پاس کیا گیا ہے جس کے تحت ریئل سٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے محض تین فیصد اضافی ٹیکس ادا کر کے بغیر کسی حکومتی روک ٹوک کے اپنے کالے دھن کو سفید کر سکیں گے۔

قومی اسمبلی میں انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2016 کے تحت یہ بل پاس کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن اور قومی اسمبلی کی فنانس کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین قیصر احمد شیخ نے کہا کہ یہ کوئی ایمنسٹی سکیم نہیں ہے بلکہ اس بل کا مقصد جایئداد کی خرید و فروخت کے اربوں روپے کے کاروبار کو رسمی معیشت میں شامل کرنا ہے۔

اسی بات کا اعادہ کمیٹی کے ممبر رانا افضل خان نے بھی کیا اور کہا کہ پاکستان میں جائیداد کی اصل قدر کے بجائے قیمتیں بہت کم کر کے دکھائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئ چیز سو روپے کی ہے اور اس کا سرکاری ریٹ 25 روپے ہے تو اس کی وجہ سے بہت سارا پیسہ چھپ جاتا تھا۔ ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ اس فرق کو ختم کیا جائے اور اصل قدر کے قریب لایا جاۓ۔‘

رانا افضل نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس بل کی مدد سے مستقبل میں معشیت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

’وزارت خزانہ کی پوری کوشش ہے کہ ہم معشیت کو کالے دھن سے سفید کریں اور بل کی منظوری اس سمت میں ایک صحیح قدم ہے۔‘

اس بل کی مدد سے یہ کوشش کی گی ہے کہ جائیداد کی قدر کو متعین کرنے میں ڈپٹی کمشنر کے آفس کی شرح اور فیڈریل بورڈ آف ریوینو کی شرح میں جو فرق ہے اس کو ختم کیا جائے۔

اس بل کے فارمولے کے تحت جائیداد اگر ایف بی آر کی طے شدہ قدر کی بجائے ڈی سی آفس کی متعین کردہ قدر کے برابر ہوئی تو جائیداد کو خریدنے والے شخص کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ قیمت کے فرق کا تین فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کرے۔

یاد رہے کہ حکومت نے اس سال جنوری میں بھی تاجروں کے لیے ایسی ہی ایک سکیم متعارف کرائی تھی۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے معاشی امور کے ماہر اور صحافی خرم حسین نے کہا کہ آج تک ان میں سے کوئی سکیم سود مند ثابت نہ ہوئی۔

خرم حسین نے کہا کہ 'پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی بھی سکیم کا فائدہ نہیں ہوا ہے۔ میری نظر میں ایسی کوئی سکیم نہیں ہے جو کامیاب ہوئی ہو اور جس کی مدد سے ملک کی آمدن میں اضافہ ہوا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رانا افضل نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس بل کی مدد سے مستقبل میں معشیت کو بہت فائدہ پہنچے گا

ان کے مطابق ’مخالفت کے باوجود یہ بل اس لیے پاس ہو گیا کیونکہ اسمبلی میں شامل ممبران کے اپنے ذاتی کاروباری مفاد کا معاملہ تھا۔'

’قومی اسمبلی میں ممبران کے اپنے سی این جی پمپس ہیں اور جائیداد کے کاروبار میں تو بہت پیسہ ہے جس کو بچانے کے لیے وہ اپنی کوششیں کرتے ہیں۔'

گو کہ یہ بل اسمبلی میں حزب اختلاف کے بایئکاٹ کے باوجود منظور کر لیا گیا لیکن حکومت کے اپنے اہلکاروں نے بھی اس بل کی مخالفت کی تھی۔

ایف بی آر کے علاوہ رانا افضل خود بھی ان چند مخالفین میں شامل ہیں جنھوں نے پہلے کہا تھا کہ اس بل کی منظوری سے فائدہ صرف پراپرٹی کے کام کرنے والوں کو ہوگا۔

اس بارے میں جب ان سے پوچھا گیا تو رانا افضل نے کہا کہ یہ بل مکمل مشاورت کے بعد طے ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں وزارت خزانہ کی نمائندگی کرتا ہوں، ایف بی آر اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ٹیکس کے معاملے میں کم سے کم رعایت دی جائے۔‘

رانا افضل نے کہا کہ مشاورت کے نتیجے میں یہ طے ہوا تھا کہ حکومت جلد بازی میں سخت فیصلے کی بجائے طویل مدتی قدم اٹھائے۔

چیئرمین قیصر احمد شیخ نے مزید بتایا کہ ’ٹیکس کے جال کو پھیلانے میں وقت لگ سکتا ہے اور ضروری ہے کہ صبر سے کام لیا جائے کیونکہ یہ ایک طویل مدتی قدم ہے جس کی مدد سے جہاں ایف بی آر کو پہلے کچھ نہیں مل رہا تھا اب وہ کم سے کم تین فیصد تک ٹیکس حاصل کریں گے۔‘

حکومتی اندازوں کے بر عکس یہ تو صرف وقت بتائے گا کہ کیا اس سکیم سے کوئی فائدہ ہو گا بھی یا نہیں؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں