’میرا فوٹو نہیں چھاپنا کیس خراب ہو سکتا ہے‘

Image caption کوئٹہ میں کِسی تنظیم کی کوئی حثیت نہیں ہے ( تصاویر لیاقت علی چنگیزی)

ہزارہ کمیونٹی کے متعلق سینئیر صحافی و تجزیہ نگار محمد حنیف کے کالموں کے سلسلے کی دوسری کڑی پیشِ خدمت ہے۔

مجھے شوق نہیں تھا ملک چھوڑنے کا۔ آخر چھوڑا تو بچوں کے لیے، کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔ علمدار روڑ پر مُرتضی بیگ مارا گیا ایک اور رشتے دار پہلے دھماکے میں زخمی ہوا، دوسرے دھماکے میں مارا گیا۔

تین بچے ہیں۔ دس سال کی بیٹی، سات سال کا بیٹا پھر چار سال کی بیٹی۔ ملک چھوڑنے سے پہلے ماں نے وعدہ لیا کہ کشتی پہ بیٹھ کر آسڑیلیا نہیں جاؤں گا، کشتی میں بڑے لوگ ڈوب کر مارے گئے ہیں۔

٭ ہزارہ کہاں جائیں؟

میں نے ایف سی میں چار سال نوکری کی، کمپیوٹر آپریٹر تھا لیکن ساتھ ساتھ ایف سی کا میڈیا کا کام ویڈیو ریکارڈنگ وغیرہ بھی کرتا تھا۔ سچی بات یہ کہ ایف سی کی حالت عوام سے بھی زیادہ خراب ہے۔ بس کینٹ کے اندر گھومتے رہتے ہیں باہر جاتے ہیں تو بلوچ اُن کا بستر گول کر دیتا ہے۔ اُتنے ہمارے ہزارہ نہیں مرے ہوں گے جِتنے ایف سی والے مارے گئے ہیں۔

جب میڈیا سیل میں آیا تو کبھی کبھی ہائی کمان کے ساتھ ڈیوٹی کرتا تھا کئی میٹنگیں بھی دیکھیں۔ جب ہمارے ہزارہ والے باہر شہید ہوتے تھے پھر احتجاج کرتے تھے تو اندر میٹنگ میں بیٹھ کر افسر بولتے تھے دیکھو ہزاروں نے پھر پھڈا ڈال دیا ہے۔

سارے معاملے کو مذہبی رنگ دیتے ہیں لیکن ایف سی میں کوئی مذہب نہیں تھا فورس میں مذہب ہو ہی نہیں سکتا اور یہ جو کہتے ہیں فلاں تنظیم ہزارہ کو مار رہی ہے یہ بھی غلط ہے کوئٹہ میں کِسی تنظیم کی کوئی حثیت نہیں ہے۔ کچھ بندے ہیں کسی کی نہیں سُنتے۔ پتہ نہیں کہاں سے پیسے لیتے ہیں اس میں ایف سی والے کا، عام فوجی کا کوئی قصور نہیں ہے۔

ہزارہ کو مارنے والے پکڑتے ہیں تو اُنھیں اینٹی ٹیرر والے رکھتے ہیں، وہ کینٹ کے اندر ہے اب وہاں سے مجرم فرار ہو جائے تو ایف سی والے کیا کریں۔

ایف سی میں نوکری کرنے سے پہلے میں کراچی میں رہا بہت سال کراچی میں بھی ہر روز لوگ مرتے تھے۔ کراچی میں تو بندہ مارا جائے تو گھر والے تین دِن لاش ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ کوئٹہ میں مارے جاؤ تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ لاش کہاں پڑی ہے۔ اِس معاملے میں کوئٹہ جنت ہے۔

میں شکل سے ہزارہ نہیں لگتا اِس لیے کراچی میں بھی، بلوچستان میں بھی آزاد گھومتا پھرتا تھا۔ مجھے دوست بھی کہتے تھے کہ تم تو شکل سے پنجابی لگتے ہو تمھیں کیا ڈر ہے۔ تو میں اُنھیں کہتا تھا کہ یہ جو کراچی میں شیعہ مارے جاتے ہیں کیا وہ شکل سے نقوی یا زیدی لگتے ہیں۔ جس نے مارنا ہوتا ہے اُسے پتہ ہوتا ہے کہ بندہ کہاں رہتا ہے کہاں کام کرتا ہے اُٹھنا بیٹھنا کس کے ساتھ ہے۔ بغیر معلومات کے کوئی ٹارگٹ نہیں ہوتا۔

مجھے بلکل شوق نہیں تھا ملک چھوڑنے کا، جب لوگ روز روز مرنے لگے تو ماں نے کہا تمھیں کچھ ہو گیا تو بچوں کا کیا ہو گا۔ قرضہ پکڑا یہاں آ گئے۔

اب ساڑھے تین سال سے یہاں بیٹھے ہیں کہ کب باری آئے گی، کون سا ملک لے گا، بچے اُدھر کوئٹہ میں۔ جوان آدمی ہوں لیکن کام کرنے کی اجازت نہیں زندگی تباہ ہو گئی لیکن اگر کوئٹہ میں ہی رہتا تو پتہ نہیں زندہ بھی ہوتا یا نہیں۔

حالات پہ سوچتا ہوں تو میرا خیال ہے بلوچستان میں اگر حالات نارمل ہو جائیں تو بلوچوں کو ہولڈ دینا پڑے گا۔ اِسی لیے پالیسی یہ ہے کہ اٹیک ہزارہ پہ کرو پھر آپریشن بلوچ کے خلاف کرو۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ہزارہ علمدار پر مرا ہے ہم نے کسی گاؤں میں جا کر بلوچوں کو پکڑ لیا باقی رہیں مذہبی تنظیمیں، اُن کی اپنی کوئی حثیت نہیں ایجنسی کے کچھ بندے اُن کو پالتے ہیں۔

ہمارے بھی جوان دوست تھے کوئٹہ میں جو بات کرتے تھے کہ ہم بھی گن اُٹھائیں گے، ہم بھی لڑیں گے، آخر ہزارہ بھی جنگجو قوم ہیں۔ میں اُنھیں سمجھاتا تھا بھاگ سکتے ہو تو بھاگ جاؤ یا چپ کر گھر میں بیٹھو۔ پیچھے پہاڑ ہے، آگے دشمن۔ چیونٹیوں کی طرح مارے جاؤ گے۔

’ہزارہ کو سٹیکر بنانے میں کوئی ٹائم نہیں لگتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں