مطالبات نہ مانے تو گو نثار گو کی جگہ گو نواز گو ہوگا: بلاول بھٹو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بلاول لاہور میں پیپلز پارٹی کے 49ویں یوم تاسیس کے موقع پر خطاب کر رہے تھے

پاکستان کی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر 27 دسمبر تک ہمارے مطالبات نہ تسلیم کیے گئے تو پھر ’گو نثار گو‘ کی جگہ ’گو نواز گو‘ کا نعرہ لگائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بات لاہور میں پیپلز پارٹی کے 49 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں تنگ آگیا ہوں، میری والدہ کو مار دیا گیا، ہمارے بچے مارے گئے لیکن تخت لاہور والے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار ان کے خلاف بولنے کو تیار نہیں ہیں۔‘

٭ لاہور میں ’نیو پی پی پی کا جنم‘

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’نیشنل ایکشن پلان کی حالت تو آپ نے دیکھی ہے، وہ اب ن لیگ ایکشن پلان ہے۔‘ اس کے بعد انھوں نے چوہدری نثار علی خان کے خلاف ’گو نثار گو‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ’یہ نعرہ کراچی، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ نہیں بلکہ لاہور سے اٹھ رہا، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ناکام ہو چکے ہیں۔‘

انھوں نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اے پی سی میں تمام جماعتوں نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ایک پارلیمانی سکیورٹی کمیٹی بنائی جائے، تاکہ وزیر داخلہ کو جوابدہ بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک وزیراعظم نواز شریف نے ہمارا یہ مطالبہ نہیں مانا ہے۔ ’اگر رواں ماہ 27 دسمبر تک ہمارے مطالبات کو نہ مانا گیا تو گو نثار گو کی جگہ گو نواز گو کا نعرہ لگائیں گے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر یہ مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔

اسی بارے میں