’حکومت ووٹ بینک کی وجہ سے تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے خوفزدہ‘

ووٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کےلیے وہ کر دار ادا نہیں کیا جو اس کو ادا کرنا چاہیے تھا‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطٰی شہر جھنگ میں کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے بیٹے کی ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ بحث شروع ہے کہ وہ کون سے سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مسرور نواز جھنگوی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ مسرور نواز جھنگوی کے پیچھے علاقائی سیاست کمروزی ہے یا پھر مذہبی جماعتوں مقبولیت کی عنصر کار فرما ہے۔

مولانا مسرور جھنگوی پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور علاقائی سیاست کے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.

جھنگ میں پنجاب اسمبلی کی نشست پر 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کامیاب ہوئی تھی اور کالعدم تنظیم اہلسنت و الجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی دوسرے نمبر پر آئے۔

اب ساڑھے تین برس کے بعد مسرور نواز جھنگوی اہلسنت والجماعت کی حمایت سے کامیاب ہو گئے اور حکمران جماعت کے امید وار آزاد ناصر انصاری دوسرے نمبر پر آئے ہیں.

تجزیہ نگاروں کے مطابق جھنگ کے صوبائی حلقہ پی پی 78 میں ہمیشہ ایک مذہبی تنظیم کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالا جاتا ہے اور اس مرتبہ سیاسی جماعتیں مضبوط امیدوار کھڑا نہ کرنے کی وجہ مذہبی تنظیم کا اثر ختم میں ناکام رہی ہیں۔

پاکستان ٹو ڈے کے ایڈیٹر اور سینیئر صحافی عارف نظامی کہتے ہیں کہ ملکی سیاست میں یہ ایک مسئلہ ضرور ہے کہ کالعدم تنظیم کے افراد آزاد حیثیت میں انتخابی سیاست میں حصہ لیتے ہیں تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی تنظیم کا امیدوار اسی علاقے سے کامیاب ہوا ہے جہاں اس تنظیم کا اثر ورسوخ ہے۔

عارف نظامی کا کہنا ہے کہ اس بات بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں کوئی مضبوط امیدوار کھڑا کرنے میں ناکام رہی ہیں جس کا فائدہ مذہبی تنظیم کے امید وار کو ملا ہے۔

معروف صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی میں مقامی سیاست کا بہت عمل دخل ہے۔

ان کے بقول مسرور نواز جھنگوی جھنگ کے مقامی رہنا والے ہیں اور ان کے والد اور بھائی کی ہلاکت کی وجہ سے ان کو ہمدردی اور تعلق کا ووٹ مل ہے جبکہ اس کے برعکس مذہبی تنظیم کے دیگر امیدوار دیگر علاقوں سے آئے ہیں اور ان کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو جھنگ کے مقامی افراد کو ہے۔

سہیل وڑائچ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بار علاقے کے بااثر شیخ خاندان یعنی وقاص اکرم کی جانب سے کوئی امیدوار میدان میں نہیں تھا اور اس کا براہ راست فائدہ مذہبی تنظیم کے امیدوار کو ہوا۔

سیاسی تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے افسوس کا اظہار کیا کہ جھنگ کی صوبائی نشست کے نتائج اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کےلیے وہ کر دار ادا نہیں کیا جو اس کو ادا کرنا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق حکومت اس بات سے خوفزدہ ہے کہ ایسی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے ان کے اپنے ووٹ بینک پر اثر پڑے گا جو ان کے امیدواروں کے اچھا نہیں ہو گا۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون نے مذہبی تنظیم کے امیدوار کا راستہ روکنے کیلئے کوئی قانونی راستہ اختیار نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مسرور نواز جھنگوی اہلسنت والجماعت کی حمایت سے کامیاب ہو گئے

سہیل وڑائچ بھی اس موقف سے کسی حد تک متفق ہیں اور بقول ان حکومت نے مذہبی جماعت کو سپورٹ نہیں کیا تاہم فری ہینڈ ضرور دیا۔

اس کی وجہ سہیل وڑائچ کے مطابق یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف دائیں بازو کی سیاست کرتی ہیں اور اس لیے ان کو بھی وہ ملتا ہے جو مذہبی جماعتوں کا ہے اور وہ اپنے ووٹ خراب نہیں کرنا چاہتیں۔

سہیل وڑائچ نے پشنگوئی کی کہ نومنتخب مسرور جھنگوی حکومت سے دور نہیں رہ سکیں گے اور حکومت کے ساتھ مل جائیں گے۔

البتہ سینیئر صحافی عارف نظامی کی رائے اس سے کچھ مختلف ہے اور اور کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون نے مزاحمت کی ہے اور اسی وجہ جتنے والے اور ہارنے والے کے ووٹوں میں کوی زیادہ فرق نہیں ہے۔

تین تجزیہ نگاروں اس بات پر متفق ہیں کہ اس بات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کہ اس سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جس کی وہ سے مذہبی تنظمیں لوگوں کو اپنے جانب راغب کرتی ہیں اور نیشنل ایکشن پر حکومت موثر طریقے سے عمل کرے۔

اسی بارے میں