بلوچستان: 16 ہزار بچے پولیو کے قطروں سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ Fareed Khan
Image caption یہ مہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 اضلاع میں چلائی گئی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں پولیو کی حالیہ مہم کے دوران سولہ ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے ہیں۔

کوئٹہ میں پولیو سے متعلق ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے ذرائع کے مطابق ان میں سے پانچ ہزار بچے ایسے تھے جن کے والدین نے انھیں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ دیگر بچوں کو پولیو ورکر کی آمد کے وقت گھر میں موجود نہ ہونے جیسے مختلف وجوہات کی بنا پر قطرے نہیں پلائے جا سکے۔

یہ مہم کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 اضلاع میں چلائی گئی۔

ان اضلاع میں پانچ سال تک کی عمر کے سولہ لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

اس مہم کے اختتام پر سرکاری حکام کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ سولہ ہزار بچے ایسے تھے جن پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاسکے۔

پولیو ایمرجنسی آپریشن سینٹر مطابق انکاری والدین کو مذہبی علماء کے ذریعے قائل کرنے کے لیے کوششیں کی جاری ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کو قطرے پلائیں۔

ماضی میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور بعض دیگر شمالی علاقوں سے پولیو کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوتے رہے تاہم گذشتہ تین چار سال کے دوران ان کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

رواں سال کے دوران بلوچستان سے پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے تاہم سرکاری حکام کے مطابق کوئٹہ، پشین، اور قلعہ عبد اللہ کے ماحول میں پولیو کا وائرس موجود ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں