غصہ آیا اور مار ڈالا

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

سٹیج ڈرامے اور رقص کے ذکر سے ذہن پر بہت سی کلا سیکی اور رنگین تصویریں ابھرنے لگتی ہیں لیکن پاکستان میں پچھلے کافی عرصے سے سٹیج ڈرامہ اور رقص عوام کی پسند کے مطابق ڈھلتے، ڈھلتے ایک خاص نہج پہ پہنچ چکا ہے۔

ظاہر ہے آرگنایئزر وہی کچھ دکھائیں گے، جس کو دیکھنے کے لیے لوگ ٹکٹ خریدیں گے، خالی کرسیوں کے لیے تو ڈرامہ بنایا نہیں جاتا۔ تو ہمارا آج کا سٹیج، ہمارے اپنے قومی مزاج کا عکاس ہے۔

مزاح کی قومی حُسن یعنی پھکڑپن اور عوامی قسم کا رقص، سٹیج کی پہچان بج چکا ہے۔ یہ اچھا ہے یا برا، اس پہ بات پھر کبھی۔ ابھی تو میں ان ڈراموں میں کام کرنے والی خواتین اداکاراوں پہ مسلسل ہونے والے حملوں کا ذکر کرنا چاہتی ہوں۔ خاص طور پہ قسمت بیگ کا قتل۔ اس سے پہلے بھی کئی اداکاراوں پہ فائرنگ اور تیزاب پھینکنے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

خوبصورتی ایک ایسی صفت ہے جو دیکھنے والے کے دل اور دماغ پہ بہت اچھے تاثرات چھوڑتی ہے فن کے ناقدین ان رقاصاوں کو جو بھی گردانیں مگر جھمجھماتے لباس پہنے، زلفوں میں پھول اٹکائے، یہ چینی کی گڑیائیں روز و شب کی چکی میں پستے لوگوں کو تفریح کا موقع فراہم کرتی ہیں، انھیں دیکھ کر حسن اور زندگی پہ اعتبار تو آتا ہے، بے شک کہ یہ تتلیاں ہر شخص کی پہنچ میں نہیں ہوتیں، یوں بھی کون ستارے چھو سکتا ہے، راہ میں سانس اکھڑ جاتی ہے۔

مگر وہ کون سفاک لوگ ہوتے ہیں جو ان خوش رنگ تتلیوں کو کچل کے راضی ہوتے ہیں؟ نادرہ قتل کیس میں ایک صاحب کا بیان مجھے اب بھی یاد ہے، جس میں کہا گیا کہ یہ عورتیں اپنی دوستیوں میں محتاط نہیں ہوتیں۔

قربان جائیے ان دوستوں کے جو جان دینے کی بجائے، جان لے کے ٹلتے ہیں۔ قسمت بیگ کے مبینہ قاتل، رانا فہیم بھی ان کے چھہ سال پرانے دوست تھے۔ قسمت کا قصور یہ تھا کہ اس نے رانا صاحب کے حکم پر فیصل آباد میں پروگرام کرنے سے انکار کر دیا۔ اب چونکہ رانا صاحب تو اس معاشرے کے فرد ہیں جہاں، رشتے سے انکار پر منگیتر پہ تیزاب پھینک دیا جاتا ہے تو موصوف کو طرارہ آگیا اور انھوں نے قسمت بیگ کو مروا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کسی معاشرے کی حسِ جمال کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ اس قسم کے وحشیانہ سلوک سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ، ذہین ہی نہیں حسین عورت کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔

یقیناً قسمت بیگ کئی افراد کی کفیل ہو گی، ماں، بہن، بچے، بھائی، کوئی نانی دادی، سب کو پال رہی ہو گی اور اس سب کے لیے وہ ایک بہت مختلف پیشے سے وابستہ تھی۔ ایک ایسا پیشہ جو باقی تمام پیشوں سے کم محنت طلب نہیں۔ رقص اور وہ بھی سٹیج پر، عوام کے سامنے کیا جانے والا رقص۔ وہ سب کے دل جیت لیتی تھی، اسی لیے آرگنایئزر اسے منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہوتے تھے۔ کسی بھی آرکیٹیکٹ، ڈاکٹر، نرس، استانی، یا درزن کی طرح وہ بھی اپنے گھر والوں کی کفیل تھی۔

سوال یہ ہے کہ وہ بے چاری تو کسی کی سلطنت الٹانے کی سازش میں بھی شریک نہ تھی، اس کے کسی بھائی بند کو نام نہاد غیرت کا غبار بھی نہ چڑھا تھا، پھر اس کا جرم کیا تھا؟ اس پدر سری معاشرے میں ایک مادر سری خاندان کا فرد ہونا؟ یا رانا صاحب کو انکار کرنے کی جرات کرنا؟ آخر کو ایک ناچنے والی اتنی ہمت کیسے کر سکتی تھی؟

خیر وہ تو اپنی جان سے گئی، اس سے وابستہ لوگ رل گئے، رانا صاحب کو اگر سزا ہو بھی گئی تو بہت ہوا تین ساڑھے تین سال میں لوٹ پیٹ کے نکل آئیں گے، مرد بچے ہیں، جیل تو سسرال کی طرح ہوتی ہے اور ہتھکڑی بہادر مرد کا زیور۔ تین سال سے کیا فرق پڑتا ہے، ہاں البتہ اتنا ضرور ہے کہ اب ان ۔۔۔۔۔ کی نسلیں رانا صاحب کے پر وگرام کے لیے انکار کرنے سے ڈریں گی۔

ہوئی نا شیروں والی بات، ایک نہتی عورت کو مار کے ہی تو مونچھ اونچی ہوتی ہے اور راناصاحب نے تو یوں بھی ایک ناچنے والی کو مارا گویا کہ کمال در کمال، ہاں یہ بات اور ہے کہ خود ان کا رزق اسی گل بکاؤلی پہ نچھاور کی جانے والی ویل کا مرہونِ منت تھا۔ لیکن چونکہ ان نوٹوں پہ اس کے ہاتھ نہیں ،تھرکتے ہوئے پاؤں پڑتے تھے اس لیے راوی اس ضمن میں خاموش رہے گا کہ وہ کیسا رزق تھا۔

خاموشی ایک اچھی عادت ہے۔ ہم تو اپنا نہ سکے ۔ آپ سب اپنایے، بھلا ہی بھلا ہو گا۔ شکریہ!

اسی بارے میں