قتل و غیرت: ’غیرت‘ کے نام پر قتل ثقافت کا نہیں سماج کا حصہ

قتل و غیرت
Image caption مباحثے کے مہمانوں میں شاہ لطیف یونیورسٹی کے شعبۂ صنفی علوم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر آغا نادیہ پٹھان اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار امتیاز حسین پھلپوٹو شامل تھے

غیرت کے نام پر قتل سندھ کی ثقافت کا حصہ نہیں لیکن یہ ناسور سماج کا حصہ اور وہ تلخ حقیقت ہے جسے قبول کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں قانون سازی اس وقت تک غیر موثر رہے گی جب تک ان واقعات کے مقدمات درج نہیں ہوتے۔

ان خیالات کا اظہار شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور میں بی بی سی اردو کی سیریز 'قتل و غیرت کے حوالے سے منعقدہ مباحثے میں کیا گیا۔

٭ سندھ میں غیرت کے نام پر قتل کیوں؟

٭ غیرت کے نام پر قتل: شرح بلحاظِ صوبہ

٭ غیرت کے نام قتل، سب سے زیادہ کہاں؟

'کیا غیرت کے نام پر قتل سندھ کی ثقافت کا حصہ ہیں؟' کے عنوان سے ہونے والے اس مباحثے کے میزبان صحافی اور کالم نگار وسعت اللہ خان تھے جبکہ مہمانوں میں شاہ لطیف یونیورسٹی کے شعبۂ صنفی علوم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر آغا نادیہ پٹھان اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار امتیاز حسین پھلپوٹو شامل تھے۔

اس مباحثے میں اساتذہ، طلبہ اور طالبات نے بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وسعت اللہ خان نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل پہلے مقامی پھر صوبائی اور ملکی اور اب بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور جنوبی سندھ کے جن نو اضلاع میں یہ واقعات زیادہ پیش آتے ہیں ان علاقوں کے طالب علم اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔

ڈاکٹر آغا نادیہ پٹھان نے تاریخی حوالے سے بتایا کہ یہ واقعات برطانوی دور حکومت میں بھی موجود تھے ان دنوں میں پہلی بار قانون بنائے گئے تھے۔ 'اس دور میں حقیقی واقعات بھی ہوتے تھے جن میں مرد اور عورت کے سماج میں ناقابل قبول تعلقات ہوتے تھے لیکن موجودہ وقت 90 فیصد واقعات جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے۔'

سردار امتیاز حسین پھلپوٹو نے تسلیم کیا کہ ان واقعات میں 90 فیصد خواتین قتل ہوتی ہیں اور اس کی وجہ سردار اور تربیت کا فقدان ہے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایسی 20 سے زیادہ لڑکیاں جو گھروں سے نکل گئیں تھیں انھوں نے انھیں واپس کرتے ہوئے والدین کو پابند بنایا کہ انھیں قتل نہیں کریں گے۔ بعد میں ان کی شادیاں کرائی گئیں وہ اپنے گھروں میں خوش ہیں۔

ڈاکٹر نادیہ پٹھان کا کہنا تھا کہ 'عورت کو عزت اور غیرت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، پہلے وہ والد اور بھائی کی عزت ہے اور شادی کے بعد وہ شوہر کی عزت بن جاتی ہے۔ اس صورتحال میں اگر مرد پر الزام آجائے تو عورت کو قتل کر کے اس کی عزت بحال کرا دی جاتی ہے جبکہ مرد آزاد رہتا ہے۔'

Image caption بی بی سی کے مذاکرے میں طالبات کی اکثریت موجود تھی، جن میں سے کچھ نے اپنے علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کو بھی بیان کیا

امتیاز حسین پھلپوٹو نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں ہیں ان سے شادی کے بارے میں رضامندی پوچھی جاتی ہے کیونکہ شادی کے لیے ماں باپ کی رضامندی ضروری ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لڑکیاں اپنی مرضی سے گھر سے نکل جاتی ہیں انھیں مارا جاتا ہے۔

آغا نادیہ پٹھان کا کہنا تھا کہ ثقافت اور مذہب میں تضاد ہے، مذہب عورت کو کئی حق دیتا ہے لیکن ثقافت نے عورت کو دیوار سے لگا دیا ہے جس میں اسے پسند سے شادی اور ملازمت کا حق نہیں ہے۔

'سماج میں سوشل سکیورٹی چاہیے جو ریاست نہیں دیتی۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوچ موجود ہے کہ جتنے رشتے مضبوط ہوں گے انھیں سوشل سکیورٹی ہوگی اور مستقبل محفوظ ہوگا۔ اس وجہ سے بھائی پہلے بھائی کو رشتہ دے گا اور یوں خاندان میں ہی جبری شادیاں کی جاتی ہیں اور جب جبری شادی ہوگی تو کہیں نہ کہیں جذباتی لگاؤ سامنے آئے گا۔'

انھوں نے بتایا کہ جبری شادی کی ایک وجہ معاشی بھی ہے کیونکہ یہ سوچ عام ہے کہ لڑکی کی اگر خاندان سے باہر شادی کی جائے گی تو اس سے ملکیت تقسیم ہو جائے گی اسی وجہ سے خاندان میں شادی کو اولیت حاصل ہے۔

مذاکرے میں شریک ایک طالبہ رابیل پیرزادہ کا کہنا تھا کہ عورت کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ تم ہماری عزت اور غیرت ہو جبکہ مرد کو کبھی یہ سبق نہیں دیا جاتا ہے۔ 'عورت کو یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ تمہاری بھی عزت ہے اور تمہیں اپنی عزت کی خود حفاظت کرنی ہے۔'

پروفیسر ڈاکٹر صائقہ کا کہنا تھا کہ معاشرے میں صنفی برابری ہونی چاہیے اور اس کی ابتدا گھر سے ہوتی ہے موجودہ وقت معاشرے میں یہ سوچ ہے کہ سماج میں خاندان کی نمائندگی لڑکا کرے گا اس طرح عورت کو سماج سے منقطع کردیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر نادیہ پٹھان نے نشاندھی کی کہ تعلیمی نصاب میں صنفی مساوات نہیں۔ اس میں عورت کا کوئی کام و کردار نظر نہیں آتا۔ اگر فاطمہ جناح کا کوئی سبق ہے تو اس میں بھی اس کا تعلق جناح سے بتایا گیا ہے جو ایک بھائی ہے۔

Image caption اس مباحثے میں اساتذہ، طلبہ اور طالبات نے بھی کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا

خیرپور یونیورسٹی میں تقریباً نو ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں جن میں اندازاً 30 فیصد طالبات ہیں۔ بی بی سی کے مذاکرے میں طالبات کی اکثریت موجود تھی، جن میں سے کچھ نے اپنے علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کو بھی بیان کیا۔

صبا نور نے بتایا کہ ان کے پڑوس میں دو جیٹھانیوں کے کسی بات پر اختلافات ہوگئے اور ایک نے دوسری پر الزام عائد کیا کہ اس نے رات کو کمرے سے کسی کو نکلتے دیکھا تھا۔ اس کے دیور نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کا قتل کر دیا۔'معاملہ پولیس تک بھی نہیں گیا۔ ایسا لگا جیسے عورت نہیں ایک چیونٹی تھی جسے مسل دیا گیا ہے، قانون میں بھی مرد کو بالادستی حاصل ہے وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔'

ماہ نور کا کہنا تھا کہ 'مذہب میں قتل کی ممانعت ہے لیکن جو دین کے ٹھیکیدار ہیں وہ لڑکیوں کے جینز پہننے پر تو فتویٰ جاری کرتے ہیں لیکن اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب عورتوں کی قتل و غارت ہو رہی ہوتی ہے۔'

نظم مہر کا کہنا تھا کہ جتنے بھی سیاسی لوگ ہیں ان میں سے اکثریت سندھ کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہاں ہی یہ مسئلہ زیادہ ہے، یہ قانون انھوں نے ہی بنائے ہوئے ہیں اور وہ اس پر عملدرآمد بھی نہیں کرتے ہیں۔آغا نادیہ پٹھان کا کہنا تھا کہ سیاست میں جاگیردار اور وڈیرہ حاوی ہے اور متوسط طبقہ اتنا متحرک نہیں جو معاشرے کی نمائندگی کرے اور اس کو ان مسائل سے نجات دلائے۔

ایک طالبہ صائمہ خورشید کے مطابق وڈیرا اپنی سیاسی حیثیت منوانے کے لیے ان واقعات کو فروغ دیتا ہے کیونکہ پوزیشن، پاور اور پولیٹیکس اس کی طاقت میں اضافہ کرتے ہیں۔

پروفیسر امداد چانڈیو کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل یقیناً سندھ کی ثقافت کا حصہ نہیں لیکن یہ ناسور سماج کا حصہ ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے، اس کو قبول کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق وہ سمجھتے ہیں اس کا خاتمہ دو طریقوں سے ممکن ہے۔ 'ایک فیوڈل ازم کو چیلینج کرنا ہوگا اور دوسرا بقول ان کے ایسی مذہبی اقدار جن کی غلط تشریح کر دی گئی ہے ان سے چھٹکارا ضروری ہے کیونکہ ان کو زیرِ بحث لا کر مرد کو اعلیٰ بنادیا گیا ہے۔'

پروفیسر چانڈیو نے کہا کہ 'سندھ کا معاشرہ اس وقت تک مہذب نہیں بن سکتا جب تک وہ عورت کو برابری کی بنیاد پر تسلیم نہیں کرتا ورنہ یہ الزام سماج پر ایک سیاہ دھبہ بنا رہے گا۔'

Image caption خیرپور یونیورسٹی میں تقریباً نو ہزار طالب علم زیر تعلیم ہیں جن میں اندازاً 30 فیصد طالبات ہیں

آغا نادیہ پٹھان نے بتایا کہ اس دور کی لڑکیوں میں حقیقت پسندی ہے وہ مزاحمت بھی کرتی ہیں لیکن اس مزاحمت کی قیمت بہت بڑی ادا کرنی پڑتی ہے جو وہ برداشت نہیں کر سکتیں، اس میں ریاست بھی اس کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوتی۔

مذاکرے میں سندھی میڈیا کا کردار بھی زیر بحث آیا۔ سلمیٰ علی کا کہنا تھا کہ آس پاس وہ ہی کہانیاں اور واقعات دیکھتے ہیں اور بدقسمتی سے جب سندھی ٹی وی چینلز دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہ ہی کہانیاں نظر آتی ہیں۔ دونوں طرف سے عورت سہمی اور ڈری ہوئی ہے۔

نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے لیے حالیہ قانون سازی پر بھی بحث کی گئی۔

پروفیسر رضا عابدی کا کہنا تھا کہ قانون مرد کے ساتھ ہے جب غیرت کے نام پر قتل کے ملزمان تھانے پر جاتے ہیں تو اس کو چارپائی پر بٹھایا جاتا ہے۔ عدلیہ اب متحرک ہوئی ہے لیکن ماضی میں اس کا کردار بھی غیر فعال رہا ہے موجودہ وقت اور قانون ضرور بدلا ہے لیکن رویے تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔

آغا نادیہ پٹھان کا کہنا تھا کہ قانون سازی ایک سنگ میل ہے لیکن مقدمات تو تب ہی چلیں گے اور سزا ہوگی اور جب یہ واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوں گے۔

پروفیسر شاہدہ امیر چانڈیو کا موقف تھا کہ قانون سازی تو اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں لیکن معاملہ عملدرآمد ہونے کا ہے جس کا فقدان ہے۔ کیونکہ یہاں مجموعی طور پر ذہنیت ہی جاگیردارانہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں