مچھ کی کالی ہوا

ہزارہ
Image caption پاکستان میں ہزارہ برادری کو ان کے عقیدے کی وجہ سے ہدف بنایا جاتا رہا ہے: (تصاویر: لیاقت علی چنگیزی)

ہزارہ کمیونٹی کے متعلق سینئیر صحافی و تجزیہ نگار محمد حنیف کے کالموں کے سلسلے کیچوتھی قسط پیشِ خدمت ہے۔

بلوچستان میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مچھ۔ شاید آپ نے نام سُنا ہو۔ وہاں کی جیل بہت مشہور ہے۔ میرا باپ اُس جیل میں سرکاری ملازم تھا۔ جنریٹر آپریٹر تھا۔ ساتھ بازار میں ٹائر پنکچر کی دُکان تھی۔ پہلی جنوری 2013 کو اُسے شہید کر دیا۔ سال کا پہلا دِن تھا۔

کیا شکایت کریں؟ جو لوگ ملک کے بارڈر کی حفاظت نہیں کر سکتے وہ بلوچستان کے چھوٹے قصبے میں ایک غریب آدمی کی حفاظت کیا کریں گے۔

٭ ’ہزارے پھڈا کرتے ہیں‘

٭ ہزارہ کہاں جائیں؟

٭ ۔۔۔ تُو بھاگ گیا

میرا باپ ہزارہ تھا، میری ماں پنجابن۔ ہم 2012 کی آخری رات کو لاہور میں تھے رشتے داروں کے ہاں۔ باپ مچھ میں اکیلا تھا۔ رات کو فون کیا بچوں سے حال احوال کیا۔ سُنا تھا کچھ مقامی چھوکرے ہیں۔ تبلیغ کے نام پر جہاد کرنے آئے۔ دھمکی دی تھی کہ تمہارے پاس گھنٹے ہیں۔ شہر چھوڑ دو یا اُلٹی گنتی گننا شروع کر دو۔

مچھ میں ایک ہی امام بارگاہ ہے اُس کا اِنتظام ہم سنبھالتے تھے۔ چھوکروں کو اِس پر اعتراض تھا۔

ہم نے لاہور میں سما ٹی وی پر پٹی دیکھی کہ مچھ میں کسی کا ٹارگٹ ہو گیا ہے۔ باپ کو فون کر رہے ہیں، فون نہیں لگ رہا۔ پھر ایک دوست کا فون آیا۔ اُس نے کہا حادثہ ہوگیا ہے لیکن بتا نہیں سکتا۔ یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔ پھر دوسرے دوست کا فون آیا تمہارے والد کا ٹارگٹ ہو گیا حوصلے سے سُنو۔

اب لاہور سے پورے خاندان کے ساتھ مچھ کیسے پہنچتے۔ غریب کے پاس تو اِتنے پیسے نہیں ہوتے۔ قرضہ لے کر ٹکٹ لیے اور والد کی لاش لینے پہنچے۔

امام بارگاہ کے ساتھ درزیوں کی دُکانیں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ والد نماز پڑھ کر نکلے۔ حال احوال کیا اور بولے کہ گھر والے لاہور گئے ہوئے ہیں، تندور سے روٹیاں لے کر گھر جاؤں گا۔

اِتنی دیر میں موٹر سائیکل پر چھوکرے آئے۔ والد صاحب کو اندر سے پتہ چل گیا کہ اُن کے لیے آ رہے ہیں۔ وہ بھاگ کر گلی میں گُھسے لیکن اُنھوں نے پکڑ لیا۔ ایک نے بالوں سے پکڑا دوسرے نے سر کے پیچھے سے تین گولیاں ماریں۔ درزیوں نے یہ سارا کچھ دیکھا۔ پھر اُنہوں نے اعلان کیا کہ جو اِس لاش کو اُٹھانے کی کوشش کرے گا اگلی باری اُس کی ہے۔

مچھ میں ہوا چلتی ہے۔ کوئلوں والی راکھ ہوتی ہے اُس میں جب ہمیں والد کی لاش ملی تو اُن کے دانت میں کوئلہ پھنسا ہوا تھا۔ پورے تین گھنٹے اُن کی لاش گلی میں پڑی رہی کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔

رات کو شہید کو دفنایا۔ سب نے سر پر ہاتھ رکھا ، سوئم تک سب نے تسلی دی۔ چوتھے دن پتہ چل گیا کہ کوئی برادری کوئی حکومت نہیں۔ کہنے لگے اکیلا تمہارا والد ہی تو شہید نہیں ہوا، یہاں اور بھی بڑے شہید ہیں۔

بےگھر ہوئے، ایسا وقت بھی آیا کہ رات چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ قبرستان میں گزارنی پڑی۔

Image caption انڈونیشیا میں ریفیوجیز کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے

پتہ چلا کے شہیدوں کے فنڈ سے 20 لاکھ روپے ملیں گے۔ دفتروں کے چکر لگانے شروع کیے۔ ایک بڑے بیوروکریٹ نے مجھ سے کہا کہ صرف ہزارے ہی شہید نہیں ہوئے سکیورٹی والے بھی شہید ہوتے ہیں، ہمیں اُن کے بچوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ پانچ لاکھ مجھے دو تو 20 لاکھ دلواتا ہوں۔ میں نے کہا یہ پیسے شہید کے بچوں کی امانت ہیں اِن میں سے ایک پیسہ بھی تمہیں نہیں دوں گا۔ میرا دِل بہت خراب ہوا۔

میں دفتر کے باہر کھڑا گالیاں دے رہا تھا کہ اپنے ایک چنگیزی صاحب گزرے۔ دفتر میں بلایا، تسلی دی کہ تمہارا کام میں کراؤں گا۔ تین چار مہینے اور عدالتوں کے چکر لگے، آخر کام ہو گیا۔ 20 لاکھ مِل گئے۔

اِس دوران اِتنے پیسے نہیں تھے کہ گھر کا کرایہ دیں۔ مال مکان اپنی بکریوں کے لیے ٹوکری میں روٹیاں رکھتا تھا ہم کبھی کبھی وہاں سے روٹی چُرا کر پیاز کے ساتھ کھاتے تھے۔

والدہ کا دل کمزور تھا، اُنھوں نے کہا تم نکل جاؤ۔ ساتھ یہ بھی وعدہ لیا کہ ڈائریکٹ جاؤ ، کشتی پر نہیں جانا۔

Image caption پاکستان میں عدم تحفظ کا شکار ہزارہ برادری کے ارکان کی بڑی تعداد ملک چھوڑ چکی ہے

جنھیں آپ اِنسانی سمگلر کہتے ہیں اُس سے مِلا، اُس نے نو ہزار ڈالر مانگے۔ اُن دِنوں ڈالر 107 روپے کا تھا۔ اُسے بولا شہید کا بیٹا ہوں کچھ تو کم کرو۔ وہ آٹھ ہزار ڈالر میں تیار ہوا۔ پھر وہی کہانی، تھائی لینڈ، جنگل کے راستے ملائیشیا اور اب تین سال سے انڈونیشیا میں۔

والدہ کو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ ساہیوال بھیج دیا۔ شہید باپ کی تنخواہ آتی ہے 25 ہزار روپے، اُس میں وہ گزارا کرتے ہیں۔ یہاں پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اگر کچھ کماؤں تو اُن کو بھیجوں۔ یہاں ایک انڈونیشن گرل فرینڈ ہے وہ تھوڑا سہارا دیتی ہے۔

لیکن تین سال سے اِدھر بیٹھا ہوں۔ یہ جو یو این والے، ریفیوجی والے ہیں اصلی انسانی سمگلر تو یہ ہیں۔ خود موٹی موٹی تنخواہیں لیتے ہیں۔ ہمارا کوئی کام نہیں کرتے۔

آپ بھی کیا کرو گے؟ ہماری کہانی لِکھو گے بیچو گے۔ آپ کا فائدہ ہوگا لیکن ہمارا کیا ہوگا۔

اسی بارے میں