قتل و غیرت

فیچر اور تجزیے

عزت یا غیرت ہے کیا؟

غیرت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو قاتل بنا دیتی ہے۔ اس کی تعریف کو کچھ ایسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے جیسے احترام، اہلیت اور سماجی رتبہ کسی معاشرے کا مجموعی لیبل ہیں جس کی ضامن عورتیں اور نگران مرد ہوتے ہیں۔

قتلِ غیرت اور پشتون ولی

طالبان چونکہ خود بھی پشتون تھے اس لیے انھوں نے پشتون ولی کو نہیں چھیڑا، اب تعلیم کے ساتھ لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے اور ان صدیوں پرانے رسوم کی گرفت رفتہ رفتہ ڈھیلی پڑ رہی ہے۔

’قتل بھی مذہب کی آڑ میں چھپا دیے جاتے ہیں‘

غیرت کے نام پر قتل ملک بھر میں عام ہیں۔ اس سلسلے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار دستیاب ہونا مشکل ہے کیوں کہ بسا اوقات ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

صنفی مساوات: کیا ہم نے منزل پا لی ہے؟

حکومت نے عورتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات تو کیے ہیں، لیکن معاشرے کی رجعت پسند سوچ کی وجہ سے عورتوں کو طاقت بخشنے کے اہداف پورے نہیں ہو رہے۔

’پتہ نہیں کس بچی کا رشتہ مانگ لیں گے‘

شکارپور کے ایک گاؤں کے کچے اور بڑے آنگن والے گھر میں صدف سومرو اور اس کے خاندان کی دیگر لڑکیاں خوف اور بےیقینی کی کیفیت میں رہ رہی ہیں۔

بندوق کے زور پر زہر کا پیالہ

جب تک غیرت کے نام پر قتل روایات کی آڑ میں جاری رہے گا غلام رسول لاڑک جیسے باپ اپنے بڑھاپے کے سہاروں کی قبروں پر نوحہ کناں رہیں گے۔

معاشرے کی سوچ بدلنے والے ڈرامے کہاں ہیں؟

پاکستان کے تفریحی میڈیا کا اگر ذرا قریب سے جائزہ لیں تو اندازہ ہو تا ہے کہ خواتین کے خلاف پاکستانی معاشرے میں جو منفی رویے پنپ رہے ہیں ان کی ایک بڑی وجہ پاکستانی ڈرامے بھی ہیں۔

’غیرت‘ کے نام پر قتل: شرح بلحاظِ صوبہ

پاکستان میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی شرح صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ ہے جہاں ایسے 50 فیصد واقعات پیش آتے ہیں۔