قتل و غیرت کی اصل وجہ، عورت کو کنٹرول کرنے کی خواہش

عائشہ سروری
Image caption عائشہ سروری نے کہا کہ مردوں کو لگتا ہے کہ عورتوں کی وجہ سے ان کا معاشرے میں مقام خطرے میں پڑ جاتا ہے

غیرت کے تصور کو عورت سے منسلک کرنا ہمارے پدرشاہی معاشرے کی پیداوار ہے، جس میں دراصل زمین کو کنٹرول کرنے کے لیے عورت کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور یہیں سے غیرت جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔

یہ خیالات تھے کالم نگار عائشہ سروری کے جنھوں نے 'قتل و غیرت' کے سلسلے میں بی بی سی اردو کے فیس بک لائیو میں بی بی سی اردو کے آصف فاروقی کے ہمراہ شرکت کی۔

عائشہ سروری نے کہا کہ مردوں کو لگتا ہے کہ عورتوں کی وجہ سے ان کا معاشرے میں مقام خطرے میں پڑ جاتا ہے، اور اس سوچ کا خمیازہ عورت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات قابلِ شرم ہے کہ یہ چیزیں 21ویں صدی میں بھی جاری ہے۔

اس موقعے پر آصف فاروقی نے اس سیریز کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے معاملے پر قانون سازی بھی ہوئی لیکن ابھی تک بدقسمی سے معاشرے پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ 'کسی بھی مسئلے کوحل کرنے کے لیے اسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہمیں اس غیرت کے مسئلے کی آج تک سمجھ نہیں آئی۔ حکومت نے قانون بنا دیا لیکن صرف قانون سے کچھ نہیں ہوتا، ہم لوگوں سے بات کر رہے ہیں، یونیورسٹیوں میں جا رہے ہیں تاکہ اس معاملے کو سمجھنے میں مدد ملے۔'

آصف فاروقی نے اس سلسلے میں قانون کی محدود ہونے کی ایک مثال دی کہ 'لاہور میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو قتل کیا، پھر خود بیٹی کے وارث کی حیثیت سے خود اپنے آپ کو معاف کر دیا۔'

انھوں نے کہا کہ ہمیں اس ذہنیت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

Image caption آصف فاروقی نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے معاملے پر قانون سازی بھی ہوئی لیکن ابھی تک بدقسمی سے معاشرے پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا

عائشہ سروری نے کہا کہ میں ایک عرصے سے اس موضوع پر کالم لکھتی چلی آ رہی ہوں اور اب تک اس موضوع پر لکھتے لکھتے تھک گئی ہیں، لیکن قتلِ غیرت والوں کو مزید شہ ملتی جا رہی ہے۔

آصف فاروقی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ انھوں نے کہا: 'پاکستان میں صحافت کرتے ہوئے آپ کو روزانہ ایسی کہانیوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس دفعہ فرق یہ ہے کہ ہم میں سے امید تلاش کر رہے ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ 'ہم سندھ گئے، فاٹا گئے، سوات گئے۔ وہاں سے جو خبریں ملیں جو سب کی سب منفی اور مایوس کن نہیں ہیں، بلکہ ہمیں کامیابی اور امید کی کہانیاں بھی ملی ہیں۔'

آصف فاروقی نے کہا کہ ہم نے یونیورسٹیوں میں بھی پروگرام کیے اور وہاں بچوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اور اپنے اردگرد اس قسم کے واقعات نہیں ہونے دیں گے، اور یہی مثبت سوچ ہمارے لیے تقویت کا باعث بن رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں