اسلام آباد ایئر پورٹ جہاں لوگ اپنے پیاروں کے انتظار میں تھے

راولپنڈی
Image caption حادثے میں ہلاک ہونے والےافراد کے لواحقین میں سے اکا دکا لوگ وہاں پہنچے

چترال سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہونے والی پی آئی کی پرواز پی کے 661 حویلیاں کرتباہ ہونے کی خبرآتے ہی میں راولپنڈی میں قائم بینظیر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچی۔

جہاں سڑک پہ مختلف ٹی وی چینلز کی ڈی ایس این جیز نظرآئیں اور صحافی حضرات اپنے متعلقہ ٹی وی چینلز کو برابر فیڈ کررہے تھے۔ یہ صورتحال دیکھ کہ لگا کہ ایئرپورٹ کے اندر کافی افراتفری ہوگی اور لواحقین کا تانتا بندھا ہوگا لیکن اندر صورتحال کافی مختلف تھی۔

داخلی دروازے پرغیرمعمولی سکیورٹی موجود نہیں تھی اور ہم بغیر کسی پوچھ تاچھ کے اندر پہنچ گئے۔ اندرونِ ملک جانے والی پروازوں کے مسافرکے لیے بنے دروازے کے باہر معلومات فراہم کرنے کے لیے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کے دو کاؤنٹرز بنے تھے جہاں کافی رش نظر آیا۔ ہم اسی طرف دوڑے۔ معلوم ہوا کہ وہ تمام تو صحافی ہیں۔

کچھ دیر بعد کاؤنٹر پہ پہنچنے والے قمر محمود نے بتایا کہ 'میرے ماموں کے بیٹے اس طیارے میں سوار تھے۔ وہ الیکٹرک انجینئر تھے اور ایک کنٹریکٹ کے سلسلے میں چھ ماہ سے وہیں مقیم تھے اوراب اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لیے جہلم جارہے تھے'۔

حادثے میں ہلاک ہونے والےافراد کے لواحقین میں سے اکا دکا لوگ وہاں پہنچے۔

انتظامیہ سے سوال کیا گیا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ’پونے پانچ بجے یہاں چند لوگ موجود تھے جو خبر سنتے ہی ایبٹ آباد کے لیے روانہ ہوگئِے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے نےبھی تمام مسافروں کے لواحقین کو فون پراطلاع کردی ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صحافی حضرات اپنے متعلقہ ٹی وی چینلز کو برابر فیڈ کررہے تھے

حویلیاں ایبٹ آباد اسلام آباد سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ زیادہ تر لواحقین نے ائیر پورٹ پر انتظار کے بجائے وہاں خود پہنچنے کو ترجیح دی۔

ابھی یہ اطلاع نہیں تھی کہ لاشوں کو اسلام آباد یا راولپنڈی کب منتقل کیاجائےگا لیکن معلومات کے لیےجو لوگ کاؤنٹر پر پہنچے انھیں پی آئی اے اور سول ایویشن نے بتایا کہ'بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ لاشیں نکالی جارہی ہیں اور جب تک انھیں اسلام آباد یا راولپنڈی کے اسپتالوں میں منتقل کرکے لواحقین کے حوالے نہیں کردیاجاتا تب تک پی آئی اے ان کے رہنے کے اخراجات برداشت کرے گی'۔

ائیرپورٹ پرموجود کافی لوگ ٹی وی سکرینوں پہ اس طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی خبریں دیکھ رہے تھے جبکہ بیرون ِ ملک سے آنے والی پروازوں کے مسافروں کے لیے بنے دروازے کے باہر کافی رش نظر آیا جہاں لوگ پھولوں کے ہار لیے اپنے پیاروں کے انتظار میں تھے۔

اسی بارے میں