’پتہ نہیں کس بچی کا رشتہ مانگ لیں گے‘

Image caption سومرو خاندان کی لڑکیوں کو خوف ہے کہ کسی بھی دن ان میں سے کسی ایک کو جرگے کے فیصلے کی بھینٹ چڑھنا پڑ سکتا ہے

شکارپور کے گاؤں مزارجو کے اس کچے اور بڑے آنگن والے گھر میں صدف سومرو اور اس کے خاندان کی دیگر لڑکیاں ایک خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں رہ رہی ہیں۔

صدف نے خیرپور یونیورسٹی سے ایم اے انگلش کیا ہوا ہے اور انھیں خوف اس بات کا ہے کہ ان کے خاندان کی کسی لڑکی کو جرگے کے فیصلے کی بھینٹ نہ چڑھنا پڑ جائے۔

’ہمارا وڈیرا کوئی بھی فیصلہ کرتا ہے نا۔ پھر وہ دینا پڑتا ہے۔ ورنہ پھر کہیں گے کہ گاؤں سے ہی نکل جاؤ۔ اس لیے ڈر لگتا ہے کہ ایسے جھوٹے الزام پر فیصلہ کر لیا تو گاؤں ہی چھوڑنا پڑے گا۔ وہ کہتے ہیں بیس لاکھ بھی لیں گے اور ایک سنگھ ( رشتہ) بھی لیں گے۔ ہمیں خوف ہوتا ہے کہ پتہ نہیں کس بچی کا سنگھ لیں گے؟

معاملہ کچھ یوں ہے کہ صدف سومرو کے چچا وحید سومرو نے یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے علاقے میں ایک بس سروس شروع کی۔ یہ گاؤں کے ٹرانسپورٹر حضرات کے لیے کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ اس کے بعد ایک پرائیویٹ انگلش میڈیم سکول کھولا ۔ جس پر انہیں گاؤں کے بااثر افراد کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ کافرانہ تعلیم سے گاؤں کے بچوں اور بچیوں کے ذہن اور اخلاق خراب کر رہے ہیں۔ مگر وہ اور ان کے دوست سکول چلاتے رہے۔

بات اس وقت بگڑی جب وحید سومرو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اپنے گاؤں کے بااثر افراد کے سامنے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ بقول وحید سومرو کے انہیں ہر طرح سے دھمکانے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی۔

’میری اس جگہ پر بھی آئے ۔ بندوں کو بھیج کر دباؤ بھی ڈالا۔ اسلحہ بھی دکھایا۔ بھئی ہاتھ اٹھاؤ۔ نہیں تو آپ بھگتو گے۔ نہ بیٹھنے کی سزا مجھے یہ دی گئی کہ ایک مظلوم لڑکی حفضہ سومرو جس نے میرے کو صرف پمفلٹوں میں دیکھا ہے۔ اس سے میرے کو کالا قرار دے دیا۔‘

وحید سومرو کہتے ہیں انھیں اس طرح کی سیاست کا اندازہ ہرگز نہیں تھا۔ یہ فیصلہ جرگے نے ان کی غیر موجودگی میں ازخود طے کیا اور جرمانہ 20 لاکھ روپے تاوان اور اپنے خاندان کی ایک لڑکی کا رشتہ بااثر افراد کو دینا قرار پایا اور جرگے کی مرضی ہوگی کہ وہ اس لڑکی کا رشتہ کس سے طے کرتے ہیں۔

وحید سومرو نے اس فیصلے کو ماننے سے صاف انکار کیا اور اس فیصلے کو تحریری شکل میں دینے کا مطالبہ کیا۔ جس پر جرگے کے اراکین نے انکار کرتے ہوئے فیصلہ بدستور قائم رکھا۔

وحید سومرو کے مطابق اب ان کا سارا خاندان اس چھوٹے سے گاؤں میں نظربند ہے اور گاؤں کی سرحد پر مسلح افراد خاموشی سے ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Image caption وحید سومرو نے جرگے کے فیصلے کو ماننے سے صاف انکار کیا اور تحریری شکل میں فیصلہ مانگا

وہ گاؤں سے چھپ کر نکلتے ہیں۔ انھوں نے اس دوران قانون اور مقامی میڈیا کا سہارا لیا۔ پولیس سے ان کا رابطہ مسلسل رہتا ہے مگر انہیں اور ان کے خاندان کو جان کا خوف مستقل لاحق ہے۔

’مگر حفضہ سومرو کو ہی کیوں کاری قرار دیا گیا؟‘ اس سوال کے جواب میں وحید سومرو کا کہنا تھا کہ ’اُس نے الیکشن میں میری مدد کی تھی۔ اُس لڑکی نے اُنھیں کہا تھا کہ یہ اچھا نہیں کہ ہم مولوی صاحب کے بجائے اس پڑھے لکھے نوجوان کو ووٹ دیں؟‘

حفضہ سومرو عدالت میں اپنی بےگناہی کا تحریری بیان بھی ریکارڈ کرا چکی ہیں مگر خود کو اپنے علاقے میں غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور اب دارالامان میں پناہ لے چکی ہیں۔

گو کہ کاروکاری کے اس معاملے میں ابھی تک کوئی عورت قتل نہیں ہوئی مگر حفضہ سومرو، صدف سومرو اور ان جیسی دیگر لڑکیاں کاروکاری کی اس ’صنعت‘ کا ایندھن ضرور بنی ہوئی ہیں۔

شکارپور پولیس نے وحید سومرو کے خلاف دائر مقدمہ خارج کردیا ہے۔ ایس ایچ او آباد ملانی ارشاد چنا نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش میں وحید سومرو پر یہ الزام ثابت نہیں ہوا کہ اس نے اور اس کے بھائی نے فائرنگ کی تھی اس وجہ سے مقدمہ خارج کردیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ حفصہ سومرو کے والدین نے وحید سومرو اور اس کے بھائی کے خلاف اپنے گھر پر فائرنگ کرانے کا الزام عائد کیا تھا۔

پولیس نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ وحید سومرو اور حفضہ سومرو کے بارے میں کوئی جرگہ ہوا ہے۔ ارشاد چنا کا کہنا تھا کہ حفضہ کو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا جہاں اس نے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کیا جس کے بعد اس کو دارالامان بھیج دیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ مقدمہ اب اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا ہے اور اس میں مزید تفتیش کی گنجائش نہیں رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں