’ڈی این اے کے ذریعے شناخت میں کئی دن لگ سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لواحقین کو کئی دن اذیت ناک انتظار سے گزرنا پڑے گا

حویلیاں میں بدھ کی شام پی آئی اے کے مسافر بردار طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کرنے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

فورنزک ماہرین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے کے بعد جائے وقوع پر لگنے والی آگ کے باعث لاشوں کی شناخت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے اور ڈی این اے سیمپلنگ کے ذریعے تمام لاشوں کی شناخت سنیچر کی شب یا اتوار تک ہی مکمل ہو سکے گی۔

پی آئی اے کی پرواز 661 پر سوار 47 افراد کی باقیات کو بدھ کو رات گئے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا تھا اور اس وقت سے وہاں لاشوں کو لینے کے لیے لواحقین بھی پہنچنا شروع ہو گئے۔

ان میں سے کئی تو پہلے اسلام آباد کے پمز ہسپتال پہنچے اور پھر وہاں سے تقریباً تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے ایبٹ آباد آئے لیکن یہاں بھی تکلیف دہ انتظار ان کا منتظر تھا۔

ہسپتال کے اعلیٰ اہلکاروں نے انھیں سمجھایا کہ لاشوں کے سوختہ اور مسخ شدہ ہونے کی وجہ سے اب ان کی ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہی شناخت ممکن ہو سکے گی اور اس کے لیے لاشوں کو جمعرات کی صبح اسلام آباد منتقل کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 48 افراد کی باقیات کو بدھ کو رات گئے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا تھا

صبح سے ہی لواحقین کی بڑی تعداد اس بلاک کے مرکزی دروازے کے سامنے جمع تھی جہاں سے لاشوں کو پہلے ایمبولینس اور پھر ہیلی کاپٹرز سے اسلام آباد کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جانا تھا۔ یہاں حکام نے نو بجے کا وقت دیا لیکن اس میں جیسے جیسے تاخیر ہوتی گئی لواحقین کی پریشانی اور غصے میں اضافہ ہونے لگا۔

اور یہ بلاوجہ بھی نہیں تھا کیونکہ وہاں پنجاب کے علاقے میانوالی سے آنے والے جنت شاہ اور ان کے دیگر ساتھیوں نے بتایا کہ وہ کل رات سے یہاں اپنے عزیز اختر شاہ کی میت لینے آئے ہیں لیکن یہاں ہم جیسے غم کے مارے افراد کو مزید انتظار کرایا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ہم تو جیسے تیسے یہاں ہمت سے کھڑے ہیں لیکن پیچھے گھر سے فون آ رہے ہیں کیونکہ وہاں قیامت کا سماں ہے اور اپنے پیارے کے آخری دیدار کا انتظار کرنا اب بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے لاشوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کا عمل شروع ہوا جو سہ پہر کے قریب مکمل ہوا۔

لیکن شاید اب بھی لواحقین کو اپنے پیاروں کی لاشیں حاصل کرنے میں اس انتظار میں کئی دن لگ سکتے ہیں جس کا ایک ایک پل گزرانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے کیونکہ ابھی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کا عمل مکمل ہونا باقی ہے۔

لاہور میں واقع فورینزک سائنسز کی لیبارٹری کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر حقیقی معنوں میں جلد سے جلد ڈی این اے سپملنگ بھی کی جائے تو اس حتمی رپورٹس تقریباً سنیچر کی شب یا اتوار سے پہلے ممکن نہیں ہیں۔

انھوں بتایا کہ ابھی ایبٹ آباد میں صرف لاشوں سے ’نمونے‘ حاصل کیے گئے ہیں جس کے بعد دوسرے مرحلے میں ان سے ڈی این اے حاصل کرنے کے لیے ایک دن درکار ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارے کے حادثے کے بعد لاشوں کو اسلام آباد منتقل کیا گیا

اس کے بعد کے مراحل میں ڈی این اے کی 'کوئنیٹیشن' کی جاتی ہے جس میں دیکھا جاتا ہے کہ اگر ڈی این اے کی مقدار زیادہ یا کم ہے تو اس کو درکار مقدار پر لایا جاتا ہے اور یہ مراحلہ دو سے تین گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد جینو ٹائپنگ کی جاتی ہے جس میں جنیاتی مواد کی تقابل سے شناخت کا عمل شروع ہوتا ہے جبکہ یہ عمل قریبی رشتہ داروں کے حاصل کردہ نمونوں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ نمونوں کا مشاہدہ اور رپورٹ کی تشکیل کا کام شروع ہو جاتا ہے اور جس میں مختلف فارمولوں کے ذریعے رپورٹ رائٹنگ میں شناخت بتائی جاتی ہے اور اس میں بھی کم از کم ایک دن درکار ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کے موجودہ صورتحال میں یہ عمل تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اس میں بھی کم از کم دو سے تین دن درکار ہوں گی جبکہ بعض معاملات میں اس سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں