آٹھ میتیں ورثا کے حوالے، باقیات کی سرد خانے منتقلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میتیں اسلام آباد کے پمز ہپستال لائی گئیں تھیں

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ مسافر طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 47 افراد میں سے آٹھ میتوں کی شناخت مکمل کر کے انھیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی وزیر برائے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اتھارٹی (کیڈ) طارق فضل چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ میتیوں کو پہلے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ورثا کی شناخت کے بعد آٹھ میتیں اُن کے حوالے کی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دو میتیں چترال روانہ کی گئی ہیں جبکہ حادثے میں ہلاک ہونے والی ایک ایئر ہوسٹس سمیت چھ افراد کی تدفین بھی مکمل ہو گئی ہے۔

٭ حادثہ شفاف تحقیقات کا ایک اور موقع

٭ پی آئی اے کے طیارے کو حادثہ، 48 افراد ہلاک

٭ ’اندر کیا دیکھنا ہے بس گٹھڑیاں ہی تو ہیں‘

اس سے پہلے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں ایئر کریش آپریشن کے سربراہ بریگیڈیئر مختار نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 23 میتیں اسلام آباد پہنچائی گئیں جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 24 لاشیں اسلام آباد لائی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر چترال اسامہ وڑائچ اُن کی اہلیہ اور بیٹی کی تدفین بھی مکمل ہو گئی ہے۔

طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ’پمز میں موجود تمام میتوں اور اُن کے لواحقین کا ڈی این اے کے نمونے لینے کے بعد تمام لاشوں کو رات دیر گئے تک روات کے قریب گولڈ سٹوریج منتقل کر دیا جائے گا۔‘

چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ پی کے 611 بدھ کی شام ایبٹ آباد کے قریب حویلیاں کے علاقے میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

اس طیارے پر 42 مسافر، عملے کے پانچ افراد سوار تھے مگر ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔

اس حادثے معروف مبلغ جنید جمشید اور اُن کی اہلیہ بھی ہلاک ہوئی ہیں۔

وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ’جنید جمشید کے بڑے بھائی ہمایوں اسلام آباد آئے تھے اور اُن کے نمونے لیے گئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یاد رہے کہ اس سے قبل این ڈی ایم اے میں ایئر کریش آپریشن کے سربراہ بریگیڈیئر مختار نے بتایا تھا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے ڈی این اے کے نمونے ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں لے لیے گئے تھے اور لواحقین کے ڈی این اے کو میچ کر کے انھیں ورثا کے حوالے کیا جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ڈی این اے کی رپورٹ آنے میں سات سے دس دن لگتے ہیں۔

پمز ہسپتال کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرام نے بی بی سی کو بتایا کہ پمز میں تمام لاشیں لائی گئی ہیں اور یہاں ورثا کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب پی آئی اے کا کہنا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ پمز ہپستال کے باہر ادا کی گئی ہیں۔

گذشتہ روز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے چیئرمین اعظم سہگل کا کہنا تھا کہ چترال سے اسلام آباد کے سفر کے دوران تباہ ہونے والے مسافر طیارے میں پرواز سے قبل کوئی فنّی خرابی نہیں تھی تاہم حادثے کی اصل وجوہات کا اندازہ تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔

اسی بارے میں