بختیار بگٹی کو انصاف کون دے گا؟

ادھیڑ عمر بختیار بگٹی بلوچستان کے ضلع جعفر آباد کے شورش زدہ علاقے چھتر کے رہائشی ہیں۔ایک سال قبل ان کے نوجوان بیٹے نواز بگٹی عرف مور کو قتل کر دیا گیا۔ تب سے ان کی ذہنی مالی اور سماجی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

اپنے علاقے میں امن ِ عامہ کی مخدوش صورتحال کے باعث انہوں نے مناسب جانا کہ وہ سندھ بلوچستان کے سرحدی علاقے میں ملاقات کریں۔ انکے جھریوں بھرے چہرے پر تشویش اور بے چارگی تھی اور باتوں میں ربط کی کمی بتا رہی تھی کہ وہ ذہنی طور پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

’سر 2015 میں ہمارا مسئلہ ہوا تھا ۔ ہمارا لڑکا تھا بڑا۔ اس کی دو بیبیاں تھا۔ چار بچے تھا۔ کمانے والا بھی وہی تھا اب کوئی نہیں ہےِ۔ حالات ہمارا صحیح نہیں ہے ۔‘

ان کے بقول ایک سال پہلے انکے قبیلے کے ایک فرد نے ان سے ان کی زمین خریدنا چاہی مگر انھوں نے انکار کر دیا۔

اس انکار کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو یہ کہ وہ بارانی زمین ان کے روزگار کا واحد ذریعہ تھی اور دوسرا انھیں یقین تھا کہ وہ بااثرافراد زمین کا پورا معاوضہ بھی نہیں دیں گے۔

چند دن بعد شام کے وقت جب ان کا میٹرک پاس بیٹا نواز بگٹی کھیتوں میں کام کر رہا تھا تو ایک شخص اس سے آ کر ملا۔

بختیار بگٹی اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتا رہے تھے کہ کچھ دیر بات چیت کے بعد جیسے ہی نواز بگٹی اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئے اس شخص نے پیچھے سے اس پر پستول سے فائر کیا اور موقع سے بھاگ گیا۔

اور پھر مبینہ طور پر اپنے گھر جا کر اپنی جوان بھابھی کو بھی قتل کرنے کے بعد ان دونوں پر سیاہ کاری کا الزام عائد کر دیا۔

جب بختیار بگٹی اپنے خاندان کے کچھ لوگوں کے ساتھ ان کے گھر پہنچے تو مقامی وڈیرے نے اس معاملے کو پولیس اور کچہری لے جانے سے منع کر دیا اور قرآن بیچ میں لا کر بختیار بگٹی کو مقامی بلوچ روایات کے مطابق فیصلہ کرنے پر راضی کر لیا۔

بختیار کے پاس ان کا حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

ان کے مطابق مقامی وڈیرے نے اس تمام کارروائی اور شہادتوں کا بیان تحریر کیا کہ نواز بگٹی اور لڑکی کی لاشیں ایک دوسرے سے بہت دور پائی گئیں۔ دونوں برہنہ حالت میں بھی نہیں تھے اور مقتولین پر سیاہ کاری کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ تحریری بیان بختیار بگٹی کو دے دیا گیا اور وہ پھر انصاف کے لیے چھتر سے کوئٹہ پہنچ کر اپنے نواب سے ملنے بگٹی ہاؤس چلے گیا۔

'وہ ہاتھ نہیں آیا۔ میں نوابوں کے پاس گیا ہوں۔ میر عالی کے پاس گیا ہوں۔۔ نواب صاحب کا لڑکا تھا۔ اس نے خط دیا۔ اس نے کہا وہ آئے گا۔ پر وہ نہیں آیا۔۔وہ بھاگ گیا۔ ادھر بھی ہمارا تشویش کوئی نہیں ہوا۔'

نواب صاحب نے بختیار بگٹی کو اس مقامی وڈیرے کے نام ایک اور خط دیا جس میں اُسے ہدایت کی گئی کہ وہ مبینہ قاتل کو بلوچی رسم و رواج کے مطابق دہکتے انگاروں پر سے گزاریں اور اگر قاتل بخیریت ان پر سے گزر جاتا ہے تو وہ بےگناہ ہے بصورت دیگر اس پر جرمانہ عائد کیا جائے۔

تاہم جب تک بختیار بگٹی اپنے علاقے چھتر پہنچتے قاتل اپنے گھر والوں کو لے کر فرار ہو چکا تھا اور اس دن سے لے کر آج تک بختیار بگٹی انصاف کے لیے سرگرداں ہیں۔

بختیار بگٹی کے ہمراہ آنے والے جعفرآباد کے صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن علی احمد بلوچ نے بتایا کہ اس واقعہ کو ایک سال ہو چکا ہے اور جس وڈیرے نے انھیں انصاف دلانا تھا وہ خود بھی قبائلی دشمنی کا شکار ہو چکا ہے۔

مرنے والی لڑکی کے بھائی نے اپنی بہن کے قتل کی ایف آئی آر مقامی تھانے میں درج ضرور کروائی تھی مگر ایسے معاملات میں کوئی خاص سرکاری پیش رفت بھی نہیں ۔

علی احمد بلوچ مزید کہتے ہیں کہ عدالتی کاروائیاں اتنی طویل اور پیچیدہ ہوتی ہیں کہ لوگ قبائلی جرگہ سسٹم کو ان پر ترجیح دیتے ہیں لیکن بعض اوقات یہ جرگے بھی انصاف پہنچانے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔

زمین جائیداد کے اس جھگڑے میں اس لڑکی کا کیا ہوا جسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ یہ بات اس قبائلی سماج میں شاید کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی شاید ایک لڑکی کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں