'پارٹ ہرڈ' سے عدالت کی کیا مرادہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت گزشتہ دو ماہ سے کر رہی ہے

پاناما لیکس کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمعے کے روز ہونے والی سماعت کے بعد جو فیصلہ دیا گیا اُس سے یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ اب اِس کیس کی سماعت ایک نیا بینچ کرئے گا جو کہ نئے چیف جسٹس کے حلف اُٹھانے کے بعد تشکیل دیا جائے گا لیکن اِس سلسلے میں چند نکات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

'پارٹ ہرڈ' سے عدالت کی کیا مرادہے؟

کیا اِس کیس کی سماعت ازسرِ نو ہوگی؟

کیا نیا بینچ یہ فیصلہ بھی کر سکتا ہے کہ کیس یہیں سے آگے بڑھایا جائے؟

کیا ضروری ہے کہ نیا چیف جسٹس خود بھی نئے بینچ میں شامل ہو؟

کیا موجودہ بینچ تعطیلات موخر یا ملتوی کر کے اِس مقدمے کا فیصلہ کر سکتا تھا؟

جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پارٹ ہرڈ' کا ترجمہ 'سنا ہوا کیس' نہ سمجھا جائے درست ہے اور اِس کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے کسی بھی بینچ کے سامنے رکھا جا سکتا ہے چاہے اُس میں موجودہ بینچ کے ممبران ہوں یا نہ ہوں۔

اُنھوں نے بتایا کہ دلائل اور اُن پر بحث تو دوبارہ سے ہوگی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نئے بینچ میں ججز نئے ہوں اور اُنھوں نے یہ کیس پہلے نہ سنا ہو، 'یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بینچ میں ججز کی تعداد بڑھا دی جائے یا پھر فل کورٹ ہو جائے'

جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے بتایا کہ عدالت یہ فیصلہ بھی کر سکتی ہے کہ مقدمے کو یہیں سے آگے بڑھایا جائے اور ازسرِ نو سماعت نہ کی جائے لیکن اِس کے لیے تمام ججوں اور درخواستگزاروں کی مرضی شامل ہونی چاہئے۔ اُن کے مطابق جنوری میں بنایے جانے والے نئے بینچ میں چیف جسٹس کی شمولیت کی ضرورت نہیں بلکہ اُنہیں بینچ میں شامل ہونے سے واضح وجوہات کی بنا پر اجتناب کرنا چاہئے۔

اُن کے مطابق اِس مقدمے کی سماعت خاصی لمبی ہوئی اور اُس کے دوران جن ججز کو کراچی جا کر سماعت کرنی تھی وہ مقدمے کی سنگینی اور وقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملتوی کر سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ تعطیلات بھی ملتوی کی جا سکتی تھیں۔

مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں میڈیا کے کیمروں کے سامنے ایسا ماحول تھا جیسے دونوں فریق ایک دوسرے کو کورٹ کے باہر پچھاڑنا چاہ رہے ہوں۔

اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے مشہور حکمراں جماعت کے رہنما طلال چوہدری سماعت کے بعد خوب گرجے ' آپ تو کہتے تھے کمیشن نہیں بنے گا تو لاک ڈاؤن کروں گا، کمیشن بنے گا تو میں بائیکاٹ کروں گا، خان صاحب کیا کہہ رہے ہیں آپ'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت کا وکلا کا کہنا ہے کہ چالیس سال پرانے لین دین کی دستاویزات پیش نہیں کی جا سکتیں

اِس کے جواب میں اُسی جگہ میڈیا کے نمائندوں کے سامنے عمران خان نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور بولے ' اِن کو پچھلے آٹھ مہینے میں اتنی قلابازیاں کھوائی ہیں نواز شریف نے، یہ پہلے کہتے تھے ہمارے پاس سب ثبوت ہیں ہم پیش کریں گے اور عدالت میں وکیل آکر کہتا ہے کہ کوئی کاغذ نہیں ہے'۔

جماعت اِسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا کہ ' افسوس کی بات ہے ہم کرپشن کا اتنا بڑا اسکینڈل لیے، کرپشن کے کوہ ہمالیہ کے ساتھ 2017 میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کے اگر اِس اہم معاملے کی وجہ سے جج صاحبان چھٹیاں ہی نہ کرتے تو بہت اچھا ہوتا'۔

اسی بارے میں