’ہم سب ایوی ایشن ماہرین ہیں‘

پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ جو چترال سے آتے ہوئے تباہ ہو گیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے کا بدقسمت طیارہ جو چترال سے آتے ہوئے تباہ ہو گیا

سوشلستان میں ان دنوں سب ایوی ایشن ماہرین ہیں۔ جنھیں اے ٹی آر اور فوکر میں فرق نہیں پتا وہ بھی اور جنھیں ہوابازی کی الف ب بھی نہیں آتی وہ بھی ماہرین ہیں۔ تو ہم انھی ماہرین اور ان کے سوشل میڈیا پر آنے والے تبصروں پر بات کریں گے۔

حادثے کے بعد کے ’انکشافات‘

اچانک سے اے ٹی آر طیاروں کہ بہت سے ماہرین سوشل میڈیا پر نظر آ رہے ہیں جنھیں ان کے رشتے دار پائلٹوں نے بتایا کہ اس طیارے میں کوئی مسئلہ ہے اور وہ اس طیارے کے گرنے کے ہی منتظر تھے کہ یہ اہم معلومات مفادِ عامہ میں دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

اور یہ پہلی بار نہیں کوئی حادثہ ہو، کوئی واقعہ ہو ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس برسات کے بعد کیڑوں کی طرح نکل آتے ہیں جن کا سرسری جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں فالو کرنے والے وہی ہیں جنہیں آپ درجنوں کے حساب سے ڈالروں میں خرید سکتے ہیں۔ سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے۔

کیا اے ٹی آر مناسب طیارہ ہے؟ کیا یہ پرواز کے قابل ہے؟ کیا یہ پرانا تھا یا نہیں تھا؟

آصفہ بھٹو زرداری نے ٹویٹ کی کہ 'یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ قدیم پرانے غیر محفوظ طیاروں کو اڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ حادثہ غیر ذمہ داری کے باعث ہوا۔'

اس پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا آصفہ بھٹو کو پتا تھا کہ اس طیارے کی عمر 9 سال چھ مہینے تھی اور ملک میں لانے کے لیے طیارے کی زیادہ سے زیادہ عمر 12 برس ہے؟

پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے لکھا کہ 'پاکستان میں کوئی خودمختار تفتیش کار ادارہ نہیں ہے جو فضائی حادثوں کی تحقیقات کر سکے۔ سول ایوی ایشن ایک نگران ادارہ ہے اور سہولیات فراہم کرنے والا ادارہ بھی وہ حادثات کی تحقیقات نہیں کر سکتا۔ میں نے نیشنل ایئر ٹرانسپورٹ سیفٹی بل دو سال قبل پیش کیا تھا تاکہ وہ آزادانہ طور پر فضائی حادثات کی تحقیقات کر سکے۔ مگر اسے سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔'

کپتان شہریار جنجوعہ کی ویڈیوز

Image caption پی آئی اے کے طیارے کے پائلٹ کیپٹن شہریار جنجوعہ

بدقسمت طیارے کی کپتان شہریار جنجوعہ نے اپنے پیچھے ویڈیوز اور تصاویر کا خزانہ چھوڑا ہے جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور گلگت کے حسین مناظر شامل ہیں۔

کپتان شہریار اکثر چترال اور گلگت کی پروازوں پر طیارہ اڑایا کرتے تھے اور انھوں نے کاک پٹ سے فلمبندی کر رکھی ہے۔

شہریار اکثر اپنی فلمیں اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیا کرتے تھے اور ان کا یوٹیوب پر اپنا چینل شہریاجس میں شمالی علاقہ جات کی حسین فلمبندی فضا سے کی گئی ہے۔

ان کے یوٹیوب چینل کے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں اور یہ ان کی یادگار آنے والی نسلوں تک محفوظ رہے گی۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے خواتین کے حقوق پر لکھنے اور بات کرنے والی ایک سرگرم آواز شائستہ عزیز کا جو ٹوئٹر پر خصوصاً اور اپنے مضامین میں عموماً خواتین کے مسائل اور نسل پرستی کے حوالے سے آواز اٹھانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption خیبرپختونخوا بم ڈسپوزل سکواڈ کے لیے زیرِ تربیت رافعہ قاسم بیگ
تصویر کے کاپی رائٹ B.K. Bangash
Image caption اسلام آباد کے قریب شام کا منظر