یہ بے ایمانی ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ BHASKER SOLANKI
Image caption جنید جمشید خود کہتے تھے کہ میں فائٹر پائلٹ بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا، ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا، انجینیئر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا، گلوکار نہیں بننا چاہتا تھا لیکن بن گیا۔

پی آئی اے کی فلائٹ پی۔کے 661، بٹنولی کے قریب پہاڑ سے ٹکرا کر ٹکڑے، ٹکڑے ہوئی، پھر اپنے ہی ایندھن میں جل کر راکھ ہوئی۔ عناصر عناصر سے مل گئے، رہے نام اللہ کا!

42 دیگر مسافروں سمیت اس جہاز پہ جنید جمشید بھی سوار تھے۔ جنید کو میں ذاتی طور پر نہیں جانتی، اور یوں بھی جب سے وہ گلوکاری ترک کر کے تبلیغ کی طرف متوجہ ہوئے تھے، میں بوجوہ ان کے ذکر سے کترانے لگی تھی۔ ان کی زندگی، ان کے فیصلے، ہم کون؟ خواہ مخواہ۔ مگر جب، ان کے انتقال کی خبر ملی تو لگا کہ عین کھیل کے درمیان سے کسی غیبی ہاتھ نے ایک کردار کو اٹھا لیا اور اب دھونس یہ ہے کہ ’کھیل تو جاری رہے گا۔‘ یہ بے ایمانی ہے۔

نانی اماں کے گھر میں ساگوان کی الماری کے اندرونی پٹ پہ، ایک پوسٹر لگا ہوا تھا۔ چمکتی آنکھوں والے ایک خوش شکل لڑکے کا۔ بہت بار جی میں آیا کہ آپا کی شکایت لگا کر ڈانٹ پڑوائی جائے۔ مگر اتنے سادہ، معصوم چہرے کو الماری میں چھپا کے رکھنے کی شکایت، ایک نو سالہ بچے کی خباثت کے باوجود میں نہ لگا پائی۔

جانے کتنی الماریوں میں، کتنے تکیوں کے نیچے، اس کی تصویریں رہیں۔ خود ہمیں بھی زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اندازہ نہ ہوا کہ ہر اہم موقعے پر، کومل سروں میں گانے والا ایک حدی خواں، آگے آگے جا رہا ہے۔ وہ تھا، ہر اس موقعے پر، جہاں الفاظ کی جگہ ساز اور آواز چاہیے تھے، وہ موجود تھا۔ سکول سے رخصت ہونے کی دعوت پہ، بکائن کے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر اسی کا گانا، ’یہ شام پھر نہیں آئے گی‘ سنا گیا تھا۔

ان درختوں کی چھاؤں سے اٹھ کر جو نکلے تو مڑ کر یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ کس درخت پہ کس کا نام، کس کے نام کے ساتھ کھدا رہ گیا تھا۔ زندگی کی تیز رو، سٹیشن سے چھوٹ چکی تھی۔ اس ہما ہمی میں، کبھی، ہجر کی کہانی بن کے، کبھی یادِ ماضی کی صورت، کبھی تنہائی کے بوجھ کو بانٹتی، ایک آواز، لحنِ داؤدی کی صورت، ساتھ رہی۔ یہ آواز، بقول ابنِ انشاء، ماضی کی ایک کھونٹی تھی، جس پہ میں نے یادوں کے پیراہن ٹانگ رکھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے لبرل حلقوں کو جنید جمشید کے عورتوں کے بارے میں تصورات پر اعتراض تھا۔

جنید نے گلو کاری کو کیوں چھوڑا؟ میں نہیں جانتی، مگر اتنا جانتی ہوں کہ ہر فنکار کے دل میں ایک ہی آگ فروزاں ہے۔ کوئی اس میں جل جل کر کندن بن جاتا ہے، کوئی خود ہی بھسم ہو جاتا ہے۔ پھر ققنس کی طرح اس کی راکھ سے ایک اور فنکار جنم لیتا ہے۔ فنکار نہ خوش رہتے ہیں نہ مطمئن۔ نہ ان کا جینا عام لوگوں جیسا ہوتا ہے نہ ان کا مرنا۔

حادثے میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ان کا دکھ جنید کی موت سے کسی طرح کم نہیں۔ حادثے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ جیسا کہ ہر بڑے سانحے کی تحقیقات ہوتی ہیں۔ یہ سب عقل والوں کے کام ہیں۔ وہ کرتے رہیں گے۔ مگر مجھے معلوم ہے یہ حادثہ کیوں ہوا۔

غالباً دلی کے ایک مشاعرے میں ایک نوجوان شاعر نے شعر پڑھا،

’دل کے پھپھولے جل اٹھے، سینے کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے‘

ایک بزرگ شاعر نے جو سنا تو بولے، ’دل جلے لگتے ہیں، زیادہ دن جیتے نظر نہیں آتے میاں صاحبزادے۔‘ چند ہی روز میں وہ نوجوان، آگ میں جل کر مر گیا۔

جنید جو آگ لیے پھر رہا تھا، اس نے ایک دن اسے جلانا ہی تھا۔ زندگی بھی اسی حدت نے اسے چین سے جینے نہ دیا۔ گلو کاری، تبلیغ، نعت گوئی، سب سائیں کے اس مچ کی لپٹیں تھیں جو دل میں مچا ہوا تھا۔ کب تک لیے پھرتا اس آگ کو؟ ایک دن بے قابو ہونا ہی تھا۔

پارہ صفت، سیماب رو جنید، اپنے ساتھ، جہاں اتنے بہت سے لوگوں کو لے گیا، وہیں ہمارا بھی بہت کچھ لے گیا۔ ہمارا بچپن، جوانی، زندگی کے کتنے ہی ماہ وسال، خواب، خواہشیں، امنگیں، ولولے۔ ہماری نسل، جو پہلے ہی بہت اداس نسل ہے، اور اداس ہو گئی۔ تم نے اچھا نہ کیا جنید جمشید!

اسی بارے میں