’ملتان ہوائی اڈے پر طیارے کے انجن کو آگ نہیں لگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یاد رہے کہ ‎پی آئی اے کی ملتان سے کراچی جانے والی پرواز PK581 کا طیارە اے ٹی آر 72 ہے۔ حال ہی میں حویلیان کے مقام پر گر کر تباہ ہونے والی چترال سے اسلام آباد کی پرواز بھی اے ٹی آر طیارے پر کی گئی تھی۔ فائل فوٹو

پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے نے اتوار کے روز مقامی میڈیا میں آنے والے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ملتان کے ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے ایک اے ٹی آر طیارے کے انجن میں پرواز سے قبل ہی آگ لگ گئی ہے۔

تاہم پی آئی اے حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملتان ہوائی اڈے پر ایک اے ٹی آر طیارے کو ملتان سے کراچی کی پرواز کرنے سے اس وقت روک دیا گیا جب اڑان سے چند لمحے قبل ہی طیارے کے کپتان نے تکنیکی وجوہات پر طیارہ تبدیل کرنے کے لیے کہا۔

مقامی میڈیا میں شام سے چلنے والی خبروں پر تبصرە کرتے ہوئے پی آئی اے کے ترجمان نے بیان جاری کیا ہے کہ طیارے کو نہ اڑانے کے کپتان کے فیصلے کے بعد اس طیارے کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ‎پی آئی اے کی ملتان سے کراچی جانے والی پرواز PK581 کا طیارە اے ٹی آر 72 ہے۔ حال ہی میں حویلیان کے مقام پر گر کر تباہ ہونے والی چترال سے اسلام آباد کی پرواز بھی اے ٹی آر طیارے پر کی گئی تھی۔

ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رابطہ کرنے سے بهی پی آئی اے کے طیارے کے انجن میں آگ لگنے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفسر کے حکم پر ریجسٹریشن AP-BKY والے اس طیارے کو وقتی طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے مطابق کراچی سے انجئینیرز کی ٹیم جلد از جلد ملتان جائے گی جس کے معائنے کے بعد جہاز کو آپریشنل کیا جائے گا۔

طیارے کے گرد فائربریگیڈ کی گاڑیاں ہوائی اڈے کی جانب سے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے پہنچائی گئیں جو کہ ہر ہوائی اڈے پر ایسے حالات میں معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔

پی آئی اے کے پاس دس اے ٹی آر طیارے ہیں جن میں سے پانچ بڑے یعنی اے ٹی آر 72 جبکہ پانچ چهوٹے اے ٹی آر 42 طیارے ہیں۔ یہ طیارے پی آئی اے کے کمیوٹر روٹ اور کم فاصلے کے کم مسافروں والے روٹس کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکهتے ہیں۔

پی آئی اے کے لیے یہ طیارے گلگت اور چترال کی پروازیں چلانے کے لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یھ طیارے مختصر اور کچے پکے رن وے سے اڑان بهر سکتے ہیں اور ان پر خرچ جیٹ طیاروں کی نبست بہت کم آتا ہے۔

اسی بارے میں