ایک باجوہ آتا ہے ایک جاتا ہے

پاکستان کے تازہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نئی ٹیم کی تشکیل کے عمل سے گزرتے ہوئے ترقیوں، تقرریوں اور تبادلوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ ماہ تک سب سے اہم سوال یہ تھا کہ نیا آرمی چیف کون ہے اور نیا آئی ایس آئی چیف کون ہوگا۔

ان سوالوں کے تسلی بخش جواب ملنے کے بعد اگلا اہم سوال یہ بن گیا کہ فوج کے شعبہِ تعلقات ِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا نیا سربراہ بھی لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی طرح سوشل میڈیا کے ہر ٹول کو آزمانے اور استعمال کرنے کا شوقین ہوگا یا پھر آئی ایس پی آر کے روایتی اطلاعاتی وظائف آگے بڑھانے پر ہی قانع ہوگا۔

کیا زمانہ تھا جب برطانوی ہند کی فوج میں ایک سیدھا سادہ سا فلم اور مطبوعات کا شعبہ ہوا کرتا تھا جسے بعد از تقسیمِ ہند محکمہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا نام دیا گیا۔ تب ایک لیفٹیننٹ کرنل اور دو معاون کپتان آئی ایس پی آر چلانے کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے۔ ان کی تقرری کی مدت بھی طے نہیں ہوتی تھی۔

جیسے آئی ایس پی آر کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کرنل شہباز خان (1949 سے 1952 ) تین برس اور ان کے بعد آنے والے ڈی جی کموڈور مقبول حسین 13 برس اس عہدے پر فائز رہے۔ بعض ڈائریکٹر جنرلز اپنے زمانے کے اعتبار سے معروف بھی ہوئے۔ جیسے بریگیڈئیر رینک کے پہلے ڈائریکٹر جنرل عبدالرحمان صدیقی (اے آر صدیقی) 1971 کی جنگ کے دوران اور بعد ازاں بطور عسکری مورخ و تجزیہ نگار جانے گئے۔

کرنل صدیق سالک نے 'میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا' پہلے لکھ لی اور بطور بریگیڈئیر ڈی جی آئی ایس پی آر (1985 تا 1988) بعد میں تقرر ہوا۔ یہ آئی ایس پی آر کے واحد ڈی جی ہیں جو اپنے فرائض نبھاتے ہوئے 17 اگست 1988 کو جنرل ضیا الحق کے ہمراہ طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوئے۔

کرنل زیڈ اے سلہری بھی نو ماہ ( نومبر 1965 تا اگست 1966) ڈی جی رہے مگر انھیں زیادہ تر لوگ بطور صحافی ہی یاد رکھتے ہیں۔ ایسا صحافی جو اردو روزنامہ نوائے وقت میں بھی انگریزی کالم لکھتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Dawn.com
Image caption کرنل صدیق سالک نے 'میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا' پہلے لکھ لی اور بطور بریگیڈئیر ڈی جی آئی ایس پی آر (1985 تا 1988) بعد میں تقرر ہوا

دھیان رہے کہ مارشل لا ادوار میں چونکہ پوری حکومت ہی فوج کا محکمہِ تعلقاتِ عامہ بن جاتی تھی لہٰذا ڈی جی آئی ایس پی آر کا نام الگ سے کم ہی چمکتا تھا۔ مگر سویلین ادوار میں آئی ایس پی آر کی اہمیت یوں بڑھ جاتی تھی کہ یہ سویلین دنیاِ ابلاغ سے باضابطہ رابطے کی واحد عسکری کھڑکی تھی اور ہے۔

جب 1988 میں جنرل ضیا کا طویل دورِ حکومت رخصت ہوا اور یکے بعد دیگرے سویلین حکومتوں کی آنیاں جانیاں شروع ہوئیں تو آئی ایس پی آر کی بھی ذمہ داریاں بڑھنے لگیں۔ پہلی بار میجر جنرل رینک کے ایک افسر ریاض اللہ کا تقرر ہوا۔ ان کے دور میں (1988 تا 1991 ) آئی ایس پی آر نے اخباری پریس ریلیز سے آگے کی دنیا میں قدم رکھا اور الفا براوو چارلی سیریز کے توسط سے فوج کا 'سافٹ امیج' عام پاکستانیوں تک پہنچانے کے لیے ٹی وی کے موثر میڈیم کا استعمال ہوا۔

الفا براوو چارلی کی پذیرائی کے بعد آئی ایس پی آر کو الیکٹرونک میڈیا کی اہمیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہوا۔ جنرل مشرف کے دور میں جب الیکٹرونک میڈیا نجی شعبے کے لیے کھولا گیا اور بعد ازاں پاکستانی فلمی صنعت کا احیا بھی ہونے لگا اور ساتھ ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی تیزی آنے لگی تو نئے ابلاغی شعبوں میں آئی ایس پی آر کی سرمایہ کاری بھی بڑھتی چلی گئی۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشنز کی تفصیلات، کارکردگی اور اس کے موثر ابلاغ کے لیے نجی چینلوں کو مسلسل اور کنٹرولڈ رابطہ کاری کے دائرے میں رکھنے کے چیلنج سے بخوبی نمٹا گیا۔

لیکن جب راحیل شریف فوج کے سربراہ بنے تو آئی ایس پی آر نے داخلی و خارجہ امور پر فوج کا نقطہِ نظر موثر بتانے کے لیے نہ صرف پرنٹ میڈیا، فلم اور ٹی وی چینلز کے کرنٹ افیئرز پروگراموں اور تجزیہ کاروں کو اپنے ابلاغی مینڈیٹ کا حصہ بنایا بلکہ ایف ایم چینلز کے میڈیم کو بھی اپنی جارحانہ ابلاغی حکمتِ عملی میں جگہ دی اور سوشل میڈیا کے وسیع و عریض میدان پر جوابی بیانیے کی جنگ میں بھی بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔

پرانے زمانے میں جس کام کو پروپیگنڈہ کہا جاتا تھا اب اسے کاؤنٹر نیریٹو کہا جاتا ہے۔ کاؤنٹر نیریٹو مسلسل نہ ہو تو اس کی افادیت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اور کاؤنٹر نیریٹو کو مسلسل رکھنا ایک مہنگا کام ہے۔ چنانچہ آئی ایس پی آر کو اتنے محاذوں پر متحرک رکھنے کے لیے نہ صرف زیادہ بجٹ بلکہ رسمی و غیر رسمی شکل میں افرادی قوت بھی درکار تھی۔ یہ کام بذاتِ خود اتنا بڑا تھا کہ اس کے لیے آئی ایس پی آر کو عملاً ایک باقاعدہ کور میں بدلنا ناگزیر تھا۔ چنانچہ پہلی بار میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کو ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر رکھتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تاکہ وہ اس کور کو زیادہ بہتر انداز میں توسیع دے سکیں اور حسبِ ضرورت صف آرا کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

لیفٹیننٹ جنرل باجوہ سے پہلے آئی ایس پی آر کے جتنے بھی ڈی جی آئے انھوں نے فوج کے موقف اور سرگرمیوں کو بطور ایک ادارہ اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جنرل باجوہ کے دور میں فوج کے سربراہ کی امیج میکنگ کا تجربہ بھی کامیابی سے کیا گیا اور جنرل راحیل شریف کی ایک 'لارجر دین لائف' شخصیت ہر ابلاغی میڈیم کو ہر ممکن طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے کامیابی سے ابھاری گئی اور اس کے ثمرات بھرپور عوامی حمایت کی شکل میں سامنے بھی آئے۔

اس ابلاغی حکمتِ عملی کے سبب ایک مرحلے پر یہ تاثر بھی ابھرنے لگا گویا راحیل شریف نہ رہیں گے تو سب ٹھپ ہو جائے گا۔ گویا 'ہمیں منزل نہیں رہنما چاہیے' والی کیفیت نظر آ رہی تھی۔

مگر پروفیشنل اداروں میں ایسا نہیں ہوا کرتا۔ بالخصوص ایسے اداروں میں جہاں ایک طے شدہ مدت کے بعد چھڑی ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنے کی مستحکم روایت ہو۔

کیا آئی ایس پی آر کا نیا ڈی جی ادارے کی لارجر دین لائف امیج میکنگ کرے گا یا چیف صاحب کی؟ اگلے تین ماہ میں سب سامنے آجائے گا۔ مگر یہ طے ہے کہ آئی ایس پی آر گزرے تین برس میں بدل چکا ہے۔ اب یہ قبل از باجوہ والا نہیں بعد از باجوہ آئی ایس پی آر ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیسویں ڈی جی کے لیے ذاتی چینلج یہ ہے کہ کیا وہ تین ملین ٹویٹر فالوورز کا باجوائی ہندسہ پار کر پائیں گے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں