’قتل بھی مذہب کی آڑ میں چھپا دیے جاتے ہیں‘

غیرت تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قصاص کے اسلامی قانون کا فائدہ اٹھا کر قاتل مقتول کے خاندان سے معافی حاصل کرکے صاف بچ نکلتا ہے

غیرت کے نام پر قتل ملک بھر میں عام ہیں۔ اس سلسلے میں قابلِ اعتماد اعداد و شمار دستیاب ہونا مشکل ہے کیوں کہ بسا اوقات ایسے واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔

تاہم عورت فاؤنڈیشن کے مطابق 2008 کے بعد سے پانچ برس کے دوران 2770 عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔ یہ اوسطاً پانچ سو قتل سالانہ بنتے ہیں۔ غیر اندراج شدہ قتل اور مردوں کے قتل اس کے علاوہ ہیں۔

قتل و غیرت: خصوصی ضمیمہ

'غیرت' کے نام پر قتل اور میڈیا

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے اکثر لوگ قانون میں ایک سقم کی وجہ سے سزا سے بچ جاتے ہیں، جس کے تحت مقتول کے وارث اور قاتل کے درمیان مصالحت ہو جاتی ہے۔

قصاص کے اسلامی قانون کا فائدہ اٹھا کر قاتل مقتول کے خاندان سے معافی حاصل کرکے صاف بچ نکلتا ہے۔ اگر کوئی قریبی رشتے دار، مثلاً باپ یا بھائی اپنی عزیزہ کو غیرت کے نام پر مار ڈالتا ہے تو اسی خاندان کا کوئی دوسرا فرد بطور وارث اسے معاف کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاتل مقدمے سے بچ جاتا ہے۔

اس ناانصافی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو اسلامی حلقے یہ سوچے بغیر دبانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس طرح منصوبہ بندی اور بدنیتی سے کیے جانے والے قتل بھی مذہب کی آڑ میں چھپا دیے جاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں معاشرے کی سوچ بدلنا مشکل ہے جب اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں کی پٹائی کی اجازت ہے اور ایک صوبائی اسمبلی کو لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر مقرر کرنے پر دھمکیاں دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایسے قتل پر آنے والا ردِ عمل خود قتل سے زیادہ ہولناک ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابتدا میں بظاہر مسلم لیگ ن بھی امام بل کو منظور کرنا چاہتی تھی لیکن بعد میں اس نے ارادہ بدل دیا

جب سینیٹر اقبال حیدر نے سینیٹ میں ایک قرارداد کے ذریعے غیرت کے نام پر قتل کی مذمت کی کوشش کی تو نہ صرف ان کی قرارداد کی مخالفت ہوئی بلکہ بعض قانون سازوں نے اپنے اس عمل کو باعثِ فخر بھی سمجھا۔

اس تناظر میں غیرت کے نام پر قتل کے ایکٹ مجریہ 2016 کو ایسی کوشش سمجھا جانا چاہیے کہ قتل کے نام پر قتل کرنے والے بچ نہ پائیں۔

نئے قانون کے تحت کئی قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں جس سے مقتول کے وارث صرف اسی صورت میں قاتل کو معاف کر سکیں گے اگر اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی ہو۔ اگر وارث قاتل کو معاف کر بھی دیں تب بھی اسے لازمی عمر قید کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ مزید برآں، قاتل کو جیل میں 25 سال بہر صورت مکمل کرنا ہوں گے۔

اس سے غیرت کے نام پر قتل کو ان جرائم کی فہرست سے نکالا جا سکے گا جن کے حق میں مذہبی عقائد کی بنیاد پر مزاحمت کی جاتی ہے۔

جب گذشتہ اکتوبر میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں امام بل پیش کیا گیا تو ایک بار پھر یہی دلیل سامنے لائی گئی۔

سینیٹ کی داخلہ امور کی کمیٹی نے امام بل کو جماعتی حد بندیوں سے آزاد ہو کر منظور کروایا۔ اس کمیٹی کی سربراہی جمعیت علمائے اسلام ف کے ایک سینیٹر کر رہے تھے۔ اس کے بعد اسے سینیٹ نے بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے ارکان بشمول ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم مشترکہ اجلاس میں اس پر اعتراضات کیے گئے۔

ابتدا میں بظاہر مسلم لیگ ن بھی امام بل کو منظور کرنا چاہتی تھی لیکن بعد میں اس نے ارادہ بدل دیا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاناما لیکس کے ہنگامے نے اس میں کردار ادا کیا ہو گا۔

نظریاتی دلیل کی کمزوری اس پہلو سے بھی ظاہر ہے کہ بعض دوسرے قانون، مثلاً تحفظِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی قوانین کو مصالحتی جرائم کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اگر یہ قوانین اسلامی عقائد کے منافی نہیں ہیں تو پھر غیرت کے نام پر قتل کی اس بنیاد پر کیوں مخالفت کی جاتی ہے؟ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ کہیں اس کے پیچھے اسلامی نظریاتی کونسل جیسے اداروں کی مریضانہ عورت مخالف سوچ تو نہیں ہے؟

قصاص اور دیت کے قانون کا بنیادی اصول کسی انسان کی سزائے موت سے جان بچانا ہے، نہ کہ جرم کو معاف کر دینا۔ اگر قصاص کی مصالحتی شرط کا اطلاق ہوتا بھی ہو، تب بھی مقدمہ چلتا رہنا چاہیے اور ملزم کو سزا ملنی چاہیے۔ اگر عدالت میں جرم ثابت ہو جائے اور قاتل کو سزائے موت دے دی جائے تب قصاص کے قانون کا استعمال ہونا چاہیے۔ لیکن بجائے اس کے کہ مناسب طریقۂ کار پر عمل ہو، بیچ ہی میں سمجھوتہ کر دیا جاتا ہے اور ملزم پر فردِ جرم ہی عائد نہیں کی جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک مسئلہ تو یہ ثابت کرنا ہے کہ واقعی یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا تھا

یہ نیا قانون اس سلسلے میں اہم پیش رفت ہے، لیکن اس میں بھی سنگین رخنے موجود ہیں۔

ایک مسئلہ تو یہ ثابت کرنا ہے کہ واقعی یہ قتل غیرت کے نام پر کیا گیا تھا۔ کیوں کہ قاتل یہ دعویٰ کر دے کہ یہ ایک عام قتل ہے جو اس نے کسی اور وجہ کی بنا پر کیا ہے، تو اس کے بعد اس بات کا تعین کہ یہ قتل غیرت کے نام پر تھا، تفتیش کاروں، استغاثہ اور جج کے کندھوں پر آ جاتا ہے۔

ایک اور خامی نئے قانون کی زبان ہے جس کے بارے میں بعض قانون دانوں نے اشارہ کیا ہے۔ مثلاً شق 311 میں کہا گیا ہے: 'عدالت۔۔۔ کسی مجرم کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دے سکتی ہے۔' یہاں پر اعتراض کیا گیا ہے کہ 'دے سکتی ہے' کی بجائے 'دے گی' ہونا چاہیے۔

امید ہے کہ یہ خامیاں شفاف اور جامع تحقیقات، عدالتی کارروائی اور مقدمات سے دور کی جا سکیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں