پاکستان اور انڈیا آبی تنازع، ورلڈ بینک نے جنوری تک حل کرنے کی مہلت

تصویر کے کاپی رائٹ Environmental Justice Atlas
Image caption انڈیا نے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے

ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو جنوری تک کی مہلت دی ہے۔

ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ کے مطابق یہ قدم اس لیے اٹھایا جا رہا ہے تاکہ دونوں ممالک اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے کوشش کریں۔

واضح رہے کہ انڈیا نے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔

اس تنازعے کے حل کے لیے انڈیا نے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی گئی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی۔

ورلڈ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'انڈیا کی جانب سےدو ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر پر انڈیا کی جانب سے غیر جانبدار ماہر اور پاکستان کی جانب چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کو عارضی طور پر روکا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے دی گئیں دونوں درخواستیں ایک ساتھ چل رہی تھیں اور خدشہ تھا کہ ان دونوں درخواستوں کے مختلف نتائج آئیں گے جس سے سندھ طاس معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 'اس عمل کو عارضی طور پر روکنے کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو بچانا ہے اور انڈیا اور پاکستان کی مدد کی جائے کہ سندھ طاس معاہدے میں رہتے ہوئے متبادل طریقہ کار سے اس آبی تنازع کو حل کیا جائے۔'

آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کو عارضی طور روکنے کے حوالے سے ورلڈ بینک نے پاکستان اور انڈیا کے وزرائے خزانہ کو خط ارسال کیے ہیں۔

ورلڈ بینک نے غیر جانبدار ماہر اور چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کت تقرریوں کا اعلان 12 دسمبر کو کرنا تھا لیکن ان تقرریوں کی بجائے دونوں ممالک کو آبی تنازع حل کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔ ان خطوط میں کہا گیا ہے کہ ورلڈ بینک یہ قدم سندھ طاس معاہدے کو بچانے کے لیے اٹھا رہا ہے۔

ورلڈ بینک گروپ کے صدر جم یانگ کنگ 'یہ دونوں ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ اس مسئلے کو مفاہمت سے اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق حل کر سکیں۔ بجائے اس کے کہ دونوں ممالک مختلف راستے اختیار کریں جس سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدہ ناقابل عمل ہو جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ دونوں ممالک یہ مسئلہ جنوری کے آخر تک حل کر لیں گے۔'

انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں کو ورلڈ بینک فنڈ نہیں کر رہا۔

یاد رہے کہ 1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت انڈیا کو مشرفی دریاؤں یعنی ستلج، راوی اور بیاس جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کو استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔

دنیا بھر میں پانی کے ذخائر تقسیم کرنے کے معاہدوں میں سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں