چکوال میں احمدیہ کمیونٹی کی عبادت گاہ پر حملہ، 100 افراد کے خلاف مقدمہ درج

احمدی عبادت گاہ تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption احمدیوں کی ایک عبادت گاہ پر پیر کو مشتعل گروہ نے حملہ کر دیا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں احمدی برادری کی ایک عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کے حملے کے الزام میں 100 نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

چکوال کے تھانہ چوآسیدن شاہ کے ایس ایچ او محمد نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت درج کیاگیا۔

’چکوال میں احمدیہ کمیونٹی کی عبادت گاہ پر دھاوا‘

ان کے مطابق اس مقدمے میں 100 نامعلوم مشتعل افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں جماعتِ احمدیہ کے افراد بھی شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا 'پولیس نے عبادت گاہ کو حفاظتی گھیرے میں لیا ہوا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔'

محمد نواز کے مطابق گذشتہ روز احمدیوں کی ایک عبادت گاہ پر مشتعل گروہ نے حملہ کر دیا تھا جس کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے ایک بزرگ کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا جو دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک جب کہ دوسرے شخص کو گولی لگی تھی۔

احمدیہ جماعت کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہمارے لوگ شدید خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں۔

انھوں نے بتایا 'علاقے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں جو ہمارے خیال میں صورت حال کو قابو کر لیں گے۔

سلیم الدین نے پانچ دسمبر کو صوبائی انتظامیہ کو لکھے جانے والے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خط میں انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ ان کی عبادت گاہ پر ایسے حملے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں