وزیر اعظم کے خلاف تحریک ’ختم‘ ، اسمبلی میں شور شرابا

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم کے بیانات میں تضاد پر جمع کرائی گئی تحریک استحقاق پر سپیکر قومی اسمبلی نے رولنگ دی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے منظوری نہیں دی جا سکتی۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت دی۔

خورشید شاہ نے اپی تقریر میں کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور عدالت مقدس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ایوان میں ہمارا ایک ایک لفظ کی اہمیت ہے۔ ایک بار غلطی مان لیں ہم معاف کر دیں گے۔'

خورشید شاہ کی تقریر کے دوران وزیر ریلوے سعد رفیق نے کئی بار ان کو ٹوکا جس پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے سعد رفیق کو ایسا کرنے سے منع کیا۔

تاہم اسمبلی میں شور شرابا کا آغاز اس وقت ہوا جب خورشید شاہ نے اپنی تقریر کے بعد سپیکر سے تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ وہ اپنے چیمبر میں پہلے ہی سے رولنگ دے چکے ہیں کہ چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے اس پر بحث نہیں ہو گی۔

سپیکر کی جانب سے اس جواب پر خورشید شاہ نے کہا 'میں اپنی تقریر میں تحریک استحقاق کی وجوہات بیان کی ہیں۔ اجازت نہ دینا زیادتی ہے۔'

سپیکر کی جانب سے وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق کو جواب دینے کی اجازت پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اس کے ساتھ اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی اور سپیکر نے اجلاس پندرہ منٹ کے لیے معطل کر دیا۔

ہمارے نامہ نگار عبداللہ فاروقی نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ممبران خورشید شاہ کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ممبران خواجہ سعد رفیق، اسحاق ڈار اور چوہدری نثار اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد کی حکمت عملی پر مشورہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں