معاہدے کے تحت ورلڈ بینک کو اس نوعیت کے خطوط لکھنے کا اختیار نہیں: احمر بلال صوفی

Image caption معاہدے کے تحت ورلڈ بینک کو اس نوعیت کے خطوط لکھنے کا اختیار نہیں ہے: احمر بلال صوفی

ورلڈ بینک کے صدر کی طرف سے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کو روکنے کے فیصلے پر بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسلام آباد میں ایک سیمینار میں بات کرتے ہوئے احمر بلال صوفی نے کہا کہ ورلڈ بینک کو چاہیے تھا کہ وہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق انڈیا اور پاکستان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کو بُلاتا، مذاکرات کرتا اور پھر کوئی راستہ نکال لیتا۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے میں بطور ثالث نامزد ہے اور اُن کے پاس ہی غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کا اختیار ہے۔

’معاہدے کے فریق اور نامزد ثالث ہونے کے تحت ورلڈ بینک پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایسے موقعوں پر ثالث کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے بلکہ اُسے چاہیے کہ وہ معاملے کو آگے بڑھائے کیونکہ اگر یہ دونوں ممالک اپنے معاملات حل کر سکتے تو ثالث کی ضرورت نہ پڑتی۔‘

ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازعے کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کو جنوری تک کی مہلت دی ہے۔ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ ورلڈ بینک کے اس اقدام سے غلط فہمیاں بڑھیں گی۔

انسٹی ٹیوٹ آف سٹراٹیجک سٹڈیز اسلام آباد میں ’پاکستان انڈیا۔۔پانی کی جنگ سے گریز' کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احمر بلال صوفی نے کہا کہ ’معاہدے کے تحت ورلڈ بینک کو اس نوعیت کے خطوط لکھنے کا اختیار نہیں ہے۔ یعنی جب فریق ورلڈ بینک کے پاس جائیں کہ ہمارا یہ تنازعہ ہے اور اسے حل کریں تو پھر انھیں فیصلہ کرنا ہے کہ تنازعہ کو حل کرنے کا طریقہ کون سا ہو اور پھر اسے حل کرنے کی طرف لے جائیں۔ یہاں انھوں نے تنازعے کو فریقین کو واپس کر دیا ہے۔ اُس سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔‘

Image caption معاہدے کی منسوخی سے متعلق انڈیا کی اعلیٰ قیادت کے حالیہ بیانات اور پانی پر جنگ جیسی باتوں سے پاکستان میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے

واضح رہے کہ خاص طور پر معاہدے کی منسوخی سے متعلق انڈیا کی اعلیٰ قیادت کے حالیہ بیانات اور پانی پر جنگ جیسی باتوں سے پاکستان کے اُن دیرینہ خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ انڈیا پاکستان کا پانی بند کرسکتا ہے یا اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے آج تک پاکستان کا پانی نہیں روکا لیکن اعلیٰ سطح پہ اس بات کو زیرِ بحث لانا بھی ایک انتہائی غیر معمولی بات تھی جس سے پاکستان میں اس بات کا اندیشہ بڑھا کہ یہ بہت بڑا خطرہ ہے۔‘

ورلڈ بینک کے خط کے بعد پاکستان کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’اگر انڈیا کی جانب سے دریائے نیلم کے پانی پر کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر رتلے پن بجلی منصوبے کی تعمیر کا کام چل رہا ہے تو پاکستان کی توقعات تو یہ ہونگیں کہ انھیں روک دیا جائے۔ ساتھ ساتھ ورلڈ بینک فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے۔ لیکن اس وقت تو معاملہ حل نہیں ہو رہا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔‘

ورلڈ بینک کی جانب سے جنوری تک کی مہلت ختم ہونے کے بعد کیا صورتحال بن سکتی ہے، اس سوال پر احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں امید تو یہی کرنی چاہیے کہ پاکستان اور انڈیا جنوری سے پہلے یہ طے کرلیں گے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا ہے جو لے کر ورلڈ بینک کے پاس جائیں کہ آپ اس معاملے کو حل کریں۔ اگر یہ نہیں ہو پاتا تو پھر صورتحال کافی ڈرامائی بن جائے گی اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ ہوسکتا ہے پاکستان یہ معاملہ اقوامِ متحدہ میں لے کرجائے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان موقف اختیار کر سکتا ہے کہ پاکستان انڈیا کے درمیان ان معاملات کے حل نہ ہونے سے بین الاقوامی امن کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اور یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں