قتل و غیرت: قبائلی جرگے کیا خواتین کے حقوق کے محافظ ہیں؟

پشاور یونیورسٹی
Image caption پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ اس مباحثے کا موضوع 'خواتین کے حقوق اور قبائلی جرگے کا کردار' تھا

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل ایک 'کاروبار' بن چکا ہے اور اس کے تدارک کے لیے ان علاقوں میں وہی قوانین رائج ہونے چاہییں جو باقی ملک میں رائج ہیں۔

یہ موقف پشاور میں منعقدہ اس مباحثے میں ابھر کر سامنے آیا جو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز 'قتل و غیرت' کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔

٭ قتل و غیرت: بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز

پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ اس مباحثے کا موضوع 'خواتین کے حقوق اور قبائلی جرگے کا کردار' تھا اور اس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا جرگے خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟

مباحثے کے شرکا میں پشاور یونیورسٹی کے پولیٹکل سائنس ڈپارٹمنٹ کی استاد نورین نصیر اور پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمان ملک وارث آفریدی کے علاوہ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد شامل تھی جبکہ اس کی میزبانی بی بی سی کی عنبر خیری نے کی۔

مباحثے میں شریک افراد کا موقف تھا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے اتنے واقعات پیش نہیں آتے جتنے پاکستان کے دیگر شہروں میں پیش آتے ہیں لیکن پشاور یونیورسٹی کے بیشتر طلبا اور طالبات اُن کے اس موقف سے متفق نظر نہیں آئے۔

ملک وارث آفریدی نے جرگے میں شامل اراکین کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام قبیلے کی نمائندگی کرتے ہیں اور ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی کمزور ہے تو اس کی نمائندگی نہیں ہوتی بلکہ کمزور جرگے کے سامنے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے موجود ہیں لیکن جرائم کا رپورٹ نہ ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں جرائم کی شرح کم ہے۔

اس کے جواب میں نورین نصیر نے فضیلت بی بی کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کو قتل کرکے کاروباری تنازعے طے کیےجاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ فضیلت بی بی کو شوہر کی غیر موجودگی میں قتل کیا گیا اور جرگے نے اسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے قبائلی علاقوں میں قائم جرگوں میں خواتین کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ خواتین کے بارے میں تمام فیصلے مرد ہی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کو 'انوزیبل' یا نہ نظر آنے والی مخلوق بنا دیا گیا ہے۔

نورین نصیر نے یہ بھی کہا کہ قبائلی علاقوں میں نہ تو عدالتیں ہیں نہ سول سوسائٹی، نہ پولیس ہے اور ناں ہی میڈیا ہے جو اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کر سکیں اور ان پر کوئی قانونی کارروائی ہو۔

مباحثے کے سامعین میں شامل پشاور یونیورسٹی کی ایک طالبہ عظمیٰ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں خواتین کو گھروں میں بند رکھا جاتا ہے انھیں تعلیم نہیں دی جاتی اور کسی بھی معاملے میں خواتین کی رائے نہیں لی جاتی اور اگر وہ کوئی خود فیصلہ کرتی ہیں تو پھر انھیں مارا جاتا ہے۔

جرگے کے کام کرنے کا کیا طریقہ کار ہے اس بارے میں نورین نصیر نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں جرگہ انتہائی مضبوط ہوتا ہے اور ان علاقوں میں ایک خاص گروہ ہے جو اس نظام میں تبدیلی نہیں چاہتا۔

انھوں نے کہا کہ یہاں ایک طاقتور لابی ہے اور جن قبیلوں کے زمین اور وسائل کم ہوتے ہیں ان کی سنوائی کم ہوتی ہے اور طاقتور قبیلے اب بھی ان فیصلوں پر حاوی ہوتے ہیں۔

تاہم وارث آفریدی کا کہنا تھا کہ ہرگز ایسا نہیں ہے کیونکہ جرگے کے ارکین کا بھی احتساب ہوتا ہے۔

Image caption نورین نصیر نے یہ بھی کہا کہ قبائلی علاقوں میں نہ تو عدالتیں ہیں نہ سول سوسائٹی، نہ پولیس ہے اور ناں ہی میڈیا ہے جو اس طرح کے واقعات کی نشاندہی کر سکیں اور ان پر کوئی قانونی کارروائی ہو

نورین نصیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کی جگہ رواج کو قانون بنایا جا رہا ہے لیکن پھر بھی خواتین جائیداد کی وارث نہیں ہو سکتیں انھوں نے مطالبہ کیا کہ جو قانون پورے پاکستان میں رائج ہے وہی قبائلی علاقوں میں ہونا چاہیے۔

اس بارے میں ایک طالبعلم نے کہا کہ سوارہ میں مردوں کی دشمنی میں لڑکیوں کو تاوان کے طور پر دیا جاتا ہے اس لیے اس نظام میں تبدیلی ضرور ہے۔

ایک اور طالبعلم کا کہنا تھا کہ کون کہتا ہے کہ 'قبائلی علاقوں میں میڈیا نہیں ہے اب تو سوشل میڈیا ہر جگہ ہے فاٹا میں خواتین کے لیے عزت ہے یہاں یونیورسٹی میں فاٹا اور شہری علاقوں کی طالبات میں فرق ہوتا ہے۔'

نورین نصیر کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں پولیٹکل ایجنٹ علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں پارلیمنٹ ہو اور انھیں بھی قانون سازی کا حق ہونا چاہیے۔

وارث آفریدی نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا نظام شہری علاقوں سے کہیں بہتر ہے اور ان علاقوں میں اپنے رواج کے مطابق نظام بنایا گیا ہے۔

اس مباحثے میں موجود بیشتر حاضرین قبائلی علاقوں میں جاری نظام میں تبدیلی چاہتے تھے جبکہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو قبائلی علاقوں کے اس نظام کو ہی ان علاقوں کے لیے بہتر سمجھتے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں