تحریک استحقاق وزیر اعظم پر کب کب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیرِ اعظم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ استحقاق متعارف کروانے کی اپنی نوعیت کی پہلی کوشش نہیں۔ اِس سے قبل سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف بھی تحریکِ استحقاق جمع کرائی گی تھی لیکن اُسے بھی اس وقت کی حکمراں جماعت کی اکثریت کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا۔ کئی لوگوں کے ذہنوں میں اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ کیا حزبِ اختلاف کے پاس تحاریکِ استحقاق لانا ہی واحد راستہ تھا؟

پاکستان میں پارلیمانی اُمور پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی یا پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ اِس طرح کی تحریکیں حکومتی جماعت کی پارلیمان میں اکثریت کی وجہ سے پیش کرنے سے پہلے یا بعد میں بحث یا ووٹنگ کے دوران مسترد ہو جاتی ہیں۔

اِس سلسلے میں غیر سرکاری تنظیم اور سیاست دانوں کے پاس اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنی بار وزیر اعظم کے خلاف تحریک استحقاق اور تحریک التوا پیش کی گئی ہیں لیکن یہ ثابت ہے کہ کوئی بھی منظور نہیں ہوئی۔

احمد بلال محبوب نے پاکستان کے پڑوسی ملک انڈیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ دونوں حکمراں جماعت کی اکثریت کی بنا پر ناکام ہو گئیں۔

پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمع کرائی جانے والی تحاریک استحقاق اور التوا کے بارے میں 'شائد حزبِ اختلاف کی جماعتیں بھی تیار تھیں کہ یہ مسترد ہو جائیں گی' لیکن اِس معاملے کو دو طریقوں سے بہتر انداز میں نمٹایا جا سکتا تھا۔ پہلا یہ کہ اگر اِن تحاریک پر سپیکر قومی اسمبلی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایوان میں اِس کو منظور کرنے پر بھی بحث نہیں کرا سکتے تو وہ چیمبر میں ایک 'اِن کیمرہ' اجلاس بلا لیتے اور کوئی فیصلہ کرلیتے۔

دوسرا طریقہ یہ کہ اگر کوئی حساس معاملہ تھا تو پریولیج کمیٹی کے حوالے کر دیتے جو اِس معاملے کو خاموشی سے نمٹا دیتی لیکن ایسا نہ ہوا۔

پارلیمانی اُمور کے ماہر احمد بلال محبوب نے بتایا کہ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے پاس دوسرا راستے تحریک التوا تھا جو پاکستان تحریکِ انصاف نے اختیار بھی کیا لیکن اُنہیں پیش کرنے کی نوبت نہ آئی اور ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

کیا اِس کے علاوہ بھی حزبِ اختلاف کے پاس تیسرا راستہ ہے حکمراں جماعت یا وزیرِ اعظم کو سیاسی جھٹکا پہنچانے کا تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے؟

احمد بلال محبوب کے مطابق اُس کے لیے ممبرانِ پارلیمان کی مخصوص تعداد کا اِس پر رضامند ہونا ضروری ہوتا ہے جس کے بعد نوٹس دیا جاتا ہے اور خاص طور پر اجلاس اِسی مقصد کے لیے بُلایا جاتا ہے لیکن اگر حکومتی جماعت کے پاس اکثریت ہو کہ حزبِ اختلاف مل کر بھی اُسے منظور نہ کراسکے تو یہ صرف 'سیاسی قدم ہی ہوتا ہے'۔

قومی اسمبلی کے بعض سینئر اراکین بھی ماضی میں وزیرِ اعظم کے خلاف لائی جانے والی تحاریکِ استحقاق کے بارے میں لا علم ہیں۔ حکمراں جماعت کے وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی بولے کہ ' تحریکِ استحقاق لانے تو دیں، وزیرِ اعظم کے خلاف تحریکِ استحقاق نہیں تحریکِ عدم اعتماد لائی جاتی ہے'۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بولے 'اِس سے پہلے کبھی وزیرِ اعظم نے اتنا بڑا جھوٹ نہیں بولا اِس لیے اِس سے پہلے تحریک بھی نہیں پیش کی گئی'۔

اسی بارے میں