ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروق ’گرفتار‘

ایم کیو ایم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ کامران فاروق کو دوران حراست کسی قسم کے تشدد یا دباؤ کا نشانہ نہ بنایاجائے

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے رکن سندھ اسمبلی کامران فاروق کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے مکمل قانونی سہولیات مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رابطہ کمیٹی پاکستان نے کہا ہے کہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جاتا رہا ہے بعد میں ایسے تمام مقدمات سے ایم کیوایم کے اراکین اسمبلی باعزت بری ہوئے ہیں تاہم اس تمام عرصے میں ہونے والے میڈیا ٹرائل سے متاثرہونے والی ساکھ کی کوئی تلافی نہیں کی جاسکی۔

رینجرز یا پولیس سمیت کسی بھی ادارے کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سامنے نہیں آئی ہے تاہم رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ کامران فاروق رکن سندھ اسمبلی منتخب ہونے سے قبل ایم کیوایم کے علاقائی ذمہ دار رہے ہیں لہٰذا ان کے خلاف مقدمات کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تفتیش پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔

رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ کامران فاروق کو دوران حراست کسی قسم کے تشدد یا دباؤ کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کے اہل خانہ اور وکلا کو ملاقات کی سہولت دی جائے اور دوران تفتیش ہی ان کی بے گناہی ثابت ہونے پر انھیں فی الفور رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ 42 سالہ کامران فاروق کراچی کے صوبائی حلقے پی ایس 111 سے رکن منتخب ہوئے تھے اور وہ پیشے سے ہومیو پیتھک شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم میں سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے نوٹس لیا جس کے بعد انھیں رہا کیا گیا جبکہ حکم عدولی پر ایس ایس پی ملیر راؤ انور کو معطل کردیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں