سینیٹ سے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق بل منظور

پاکستان کے ایوان بالا میں پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق بل کو حکومتی ارکان کی مخالفت کے باوجود اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے۔

جمعرات کو ایوان بالا میں پاناما لیکس انکوائری بل سنہ 2016 کو حزب مخِالف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے پیش کیا تھا۔

* پاناما انکوائری بل میں ہے کیا؟

* پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق بل سینیٹ میں پیش

* پاناما لیکس میں مدعی سست؟

خیال رہے کہ 31 اگست کو سینیٹ میں جمع کرائے گئے اس بل کے مسودے کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو پامانا لیکس کی تحقیقات کرے۔

جمعرات کے اجلاس میں جس کی صدارت چیئرمین رضا ربانی کر رہے تھے حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کے تقریباً چالیس اراکین نے یہ بل منظوری کے لیے پیش کیا لیکن رائے شماری میں اس کے حق میں سینتیس جبکہ مخالفت میں پندرہ ووٹ پڑے۔

بل پیش کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن، سیعد غنی، احمد حسن، گیان چند، فرحت اللہ بابر، تاج حیدر، رحمان ملک، شیری رحمان، الیاس احمد بلور، شاہی سید، ستارہ ایاز، اسرار اللہ زہری، مشاہد اللہ سید، محمد اعظم خان سواتی اور دیگر سینٹرز شامل تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اگست میں اس بل کو ایوان میں پیش کیا گیا اور اس کے بعد اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے مطابق کمیٹی میں حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اس بل پر اختلاف کی وجہ سے مشاورت نہیں ہو سکی جس کے بعد مدت ختم ہونے کے بعد اسے جمعرات کو سینیٹ میں پیش کر دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پاناما انکوائری بل میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے چھ کے قریب ترامیم پیش کی گئی تھیں جنھیں مسترد کر دیا گیا جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ ترامیم کو شامل کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں پیپلز پارٹی نے بل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں جمع کروایا تھا تاہم بعد میں ایوان میں موجود حزب مخالف کی دیگر جماعتوں نے بھی شامل ہو گئی تھیں اور اس میں اپنی رائے دی تھی۔

دوسری جانب حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہد اللہ نے اس بل کی ایوان میں مخالفت کرتے ہوئے اس بل کو حزب مخالف کی بددیانتی قرار دیا۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ نون کے ہی سینیٹر راجہ ظفر الحق نے بھی بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حزب مخالف نے بل پر مشاورت کے لیے مزید وقت دینے پر اتفاق کیا تھا اور اس کو سلیکٹ کمیٹی میں بھجوایا جائے تو بہتر ہو گا۔

خیال رہے کہ 31 اگست کو سینیٹ میں جمع کرائے گئے اس بل کے مسودے کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو پامانا لیکس کی تحقیقات کرے۔

پاکستان کے خفیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن سے تعاون کرنے کے پابند ہوں گے اس کے علاوہ کمیشن کو ضابطہ فوجداری اور ضابطہ دیوانی کے بھی اختیارات ہوں گے اور کمیشن پانامالیکس کی تحقیقات کے لیے کسی کو بھی طلب کرسکتا ہے۔

حکمراں مسلم لیگ (ن) اپنا ایک بل قومی اسمبلی سے یکم دسمبر کو حزب اختلاف کی غیرموجودگی میں منظور کروا لیا تھا۔ اس سے قبل قومی اسمبلی کی قانون اور انصاف کی قائمہ کمیٹی نے اکتوبر میں پاکستان کمیشن آف انکوائری نامی اس بل کی منظوری دی تھی لیکن تین کوششوں کے باوجود ایوان سے منظور کروانے میں ناکام رہی تھی۔

اسی بارے میں