قتلِ غیرت اور پشتون ولی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'ایک دن میں (حاکمِ پشاور سلطان محمد خان کے ساتھ) پشاور کے مضافات میں گھوڑے پر سوار جا رہا تھا کہ ایک ہجوم نظر آیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک عورت اور مرد کی مسخ شدہ لاشیں دکھائی دیں۔ مرد میں ابھی جان باقی تھی اور وہ گوبر کے ڈھیر پر پڑا تھا۔ ایک شخص سامنے آیا اور کانپتی ہوئی آواز میں سلطان محمد خان کو بتایا کہ اس کی بیوی بےوفائی کر رہی تھی اور اس نے دونوں کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ سلطان نے چند سوال کیے جن پر چند منٹ سے زیادہ وقت صرف نہیں ہوا ہو گا، اور پھر بلند آواز میں اعلان کیا: 'تم نے اچھے مسلمان کا کردار ادا کرتے ہوئے جائز قدم اٹھایا ہے۔' یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ ہجوم نے 'آفرین' کا نعرہ بلند کیا۔'

یہ واقعہ ہم نے انگریز فوجی افسر لیفٹیننٹ ایلکس برنز کی 1833 میں شائع ہونے والی کتاب 'ٹریولز ان ٹو بخارا' سے لیا ہے جس میں اس نے ہندوستان سے براستہ پشاور و کابل بخارا کے سفر کی داستان رقم کی ہے۔

نوجوان لیفٹیننٹ نے اس بات پر بڑی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ حاکم نے بغیر مقدمہ چلائے اور کسی گواہ کا بیان لیے بغیر کھڑے کھڑے اس دہرے قتل کا فیصلہ سنا دیا۔ لیکن روایتی پشتون معاشروں میں آج بھی یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔

سیاہ کاری

اس رویے کی بنیادیں پشتون ثقافت کی جڑ یعنی 'پشتون ولی' میں ملتی ہیں۔ یہ وہ غیر تحریر شدہ ضابطۂ اخلاق ہے جو آج بھی قبائلی علاقوں میں سکہ رائج الوقت ہے۔ اس کے نمایاں حصے میلمستیا (مہمان نوازی)، ننگ (غیرت)، ننواتے (پناہ طلبی)، بدل (انتقام)، وغیرہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک جزو 'تور' کا بھی ہے۔ تور تو ویسے پشتو میں سیاہ رنگ کو کہتے ہیں لیکن پشتون ولی کے تناظر میں اس کا مطلب کچھ اور ہے۔

پشتون معاشرے میں بسا اوقات کسی مرد، خاندان، گاؤں، حتیٰ کہ پورے قبیلے کی عزت کسی ایک عورت کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اگر کسی عورت پر بدچلنی کا الزام لگ جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ تور یعنی کالی ہو گئی ہے۔ اب عزت بچانے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ مرد اور عورت دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی عورت کو چھونے حتیٰ کہ بعض اوقات صرف بری نیت سے دیکھنے سے بھی تور کا پہیہ حرکت میں آ جاتا ہے جس کا نتیجہ خون کی شکل میں نکلتا ہے۔

اس کی ایک بدترین مثال 2004 میں دیکھنے میں آئی جب بھٹانی قبیلے کے چند نوجوان پڑوسی مروت قبیلے کی دو لڑکیاں اغوا کر کے لے گئے۔ مروتوں نے چار ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر اکٹھا کیا اور بھٹانیوں پر دھاوا بول دیا۔ بھاری اسلحے سے لڑی جانے والی شدید جھڑپ میں دونوں لڑکیوں سمیت 80 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

صرف الزام کافی ہے

قوم پرست رہنما جمعہ خان صوفی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تور کا اصول اب بھی بڑے پیمانے پر پشتون معاشرے، خاص طور پر قبائلی علاقوں میں رائج ہے۔ انھوں نے کہا کہ تور کا اصطلاحی مطلب الزام ہے، اور اس کے لاگو ہو جانے کے لیے عورت یا مرد پر محض الزام ہی کافی ہے، الزام کی صحت کی تفتیش و تحقیق ضروری نہیں ہے۔

پشتون ولی میں عورت کا کردار مرکزی ہے، لیکن روایتی قبائلی معاشرے میں عورت کا مقام مرد سے بہت نیچے جا کر آتا ہے۔ مثال کے طور پر پشتون ولی کے تحت عورت ورثے میں جائیداد کی حق دار نہیں ہے، قطع نظر اس کے کہ یہ اسلامی شریعت سے براہِ راست متصادم ہے۔

پشتون ولی میں بدل کا تصور بھی خاصا اہم ہے اور اگر ایک نسل انتقام نہ لے سکے تو اس کی ذمہ داری اگلی نسل کو منتقل ہو جاتی ہے۔ لیکن تور کے معاملے میں بدل بھی پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر کسی شادی شدہ عورت کو اس کا خاوند تور کے تحت قتل کر دے تو اس کے والد کے پاس خاموش رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

تور کے سلسلے میں شادی شدہ عورت اور غیر شادی شدہ عورت میں فرق روا رکھا جاتا ہے۔ اگر غیر شادی شدہ عورت کسی مرد کے ساتھ بھاگ جائے اور ہاتھ نہ آئے تو مرد جرگے کے فیصلے کے مطابق ایک خاص تاوان ادا کر کے اپنے اور عورت کے لیے معافی حاصل کر سکتا ہے۔ البتہ عام طور پر ان دونوں کو علاقہ بدر کر دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تاہم تور ہونے کے بعد شادی شدہ عورت کے لیے کوئی معافی نہیں اور اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔

طالبان اور پشتون ولی

نائن الیون کے بعد قبائلی علاقوں میں طالبان کا راج ہو گیا تھا، جو اپنے سخت گیر اسلامی قوانین بھی ساتھ لے کر آئے، اور انگریزوں کے قائم کردہ صدیوں پرانے ملکی نظام کا پورا ڈھانچہ ہی زمیں بوس کر دیا۔ کیا اس شکست و ریخت کا قبائلی پشتون ولی کے نظام پر کوئی فرق پڑا؟

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے پشتو ادیب اور باچہ خان یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے والے محب وزیر کہتے ہیں کہ طالبان چونکہ خود بھی پشتون تھے اس لیے انھوں نے پشتون ولی کو نہیں چھیڑا، اور ان کے کنٹرول والے علاقوں میں بھی یہ پہلے کی طرح جاری و ساری رہی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب تعلیم کے ساتھ لوگوں کی سوچ بدل رہی ہے اور ان صدیوں پرانے رسوم کی گرفت رفتہ رفتہ ڈھیلی پڑ رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں