دہشت گردوں اور اُن کی تنظیموں پر فوری طور پر پابندی عائد کریں: کمیشن

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال اگست میں ہونے والے اس حملے میں تقریباً 70 افراد ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں بنائے گئے سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت انسدادِ دہشت گردی کے قانون پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے دہشت گردوں اور اُن کی تنظیموں پر فوری طور پر پابندی عائد کرے۔

اگست میں ہونے والے اس خودکش حملے میں 70 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ کے کمیشن نے اس واقعے کی تحقیقات کے بعد تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

٭ غلط حکومتی بیانات اور صحافیوں کی عدم حساسیت

٭ 'اقربا پروری اور قریب المرگ وزارت'

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مبنی ایک رکنی کمیشن نے 56 دنوں کی کارروائی کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت نفرت انگیز تقاریر اور شدت پسندی پر مبنی پروپیگنڈا روکنے میں ناکام رہی ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے نیشنل ایکشن پلان کو مناسب طریقے سے ترتیب دیا جائے اور اس کے اہداف واضح ہوں۔

کمیشن نے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی ناقص کارکردگی پر تنقید کی اور تجویز دی کہ نیکٹا کو فعال بنایا جائے۔

تحقیقاتی کمیشن نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ حکومت شدت پسند تنظیموں کو عوامی اجتماعات کرنے سے روکے اور کالعدم جماعتوں کی فہرست کو وزراتِ داخلہ کی ویب سائٹ، نیکٹا اور تمام صوبوں کو جاری کرے۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ کالعدم قرار دی جانے والی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست کو عوام کے لیے بھی عام کرے اور اُس میں کی جانے والی تبدیلی سے بھی سب کو آگاہ کیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا اطلاق تمام سرکاری افراد پر بھی ہو اور اسے صرف کالعدم جماعتوں کے لیے ہی استعمال نہ کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کمیشن نے تجویز دی ہے کہ اس معاملے میں برتی جانے والی ریاکاری کو ختم کیا جائے اور قومی سطح پر رائج پالیسی کو مربوط بنایا جائے جس کے تحت تمام سرکاری ملازم اپنے فرائض صحیح سے انجام دیں نہیں تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 'سنہ 2012 میں دہشت گردی کے ایک مقدمے کے فیصلے میں بلوچستان ہائی کورٹ نے حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ جامع معلومات پر مبنی ایک ڈیٹا بیس بنایا جائے، جس میں سنگین جرائم میں کے مرتکب افراد اور مشتبہ افراد، دہشت گرد تنظیموں کے کوائف اُن میں شامل افراد کی تفصیلات، ہتھیاروں کی تفصیل، وہ کون کون سا دھماکہ خیز مواد استعمال کرتی ہیں اور اُن کے حملے کا طریقہ کار کیا ہے، کی معلومات ہوں۔'

'چار سال گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا اور قانون کے تحت بھی تین سال اور نو ماہ گزرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔'

کمیشن کا کہنا ہے کہ نیکٹا کے قانون کے تحت بھی تمام معلومات جمع کر کے اُسے متعلقہ اداروں کو دینا ضروری ہے لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

کمیشن نے اپنی تجاویز میں مزید کہا ہے کہ میڈیا بھی اگر دہشت گردوں کے موقف کو نشر کرے تو اُن کے خلاف بھی متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔

سپریم کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے علاوہ کسی اور دوسرے صوبے میں خطیر اخراجات کے باوجود بھی فورینزک لیبارٹری نہیں بنائی گئی اور تجویز کیا گیا ہے کہ باقی صوبے بھی اسی طرز کی لیبارٹری بنائیں جس کا سربراہ پولیس کے ماتحت نہ ہو۔

جائے وقوعہ کو فورینزک معلومات کے لیے پیشہ ورانہ انداز میں محفوظ بنایا جائے اور تحقیقاتی افسر اگر ایسا کرنے میں ناکام رہے تو اُس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کمیشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت اپنا بیانیہ عام کرے اور اپنی ذمے درایوں کو پورے نہ کرنے والے افراد کا احتساب کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں