غلط حکومتی بیانات اور صحافیوں کی عدم حساسیت

وفاقی وزیر داخلہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سول ہسپتال پر حملے کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اس حملے میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں آٹھ اگست کو سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش حملے پر قائم عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں صوبائی حکومت کے کردار پر کڑی تنقید کی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس رپورٹ میں حملے کے فوری بعد صوبائی وزیر داخلہ (سرفراز بگٹی) کی جانب سے اس کی 99 فیصد ذمہ داری پاکستان کے دو ہمسایہ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں پر ڈالنے کے بیان کو قبل از وقت اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق 'وزیر داخلہ کے لیے حملے کے بعد اور تفتیش کے آغاز سے قبل ہی ایسا بیان دینا حکومتی ساکھ متاثر ہونے اور تفتیش کاروں کو تفتیش سے روکنے کے مترادف قرار دیا۔‘

رپورٹ کے مطابق 'وزیر کو خوش کرنے کے لیے جنھوں نے اس کا پہلے ہی فیصلہ کر دیا کہ یہ کس نے کیا، وہ کسی اور نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں گے۔'

رپورٹ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان (ثنا اللہ زہری) کے دس نومبر 2016 کے بیان کا بھی ذکر کیا جس میں انھوں نے اس حملے کے 'ماسٹر مائنڈ' کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس بیان کو اگلے دن کے اخبارات نے صفحہ اول پر شہ سرخیوں میں شائع کیا۔ رپورٹ کے مطابق اگلے ہی روز یعنی 11 نومبر کو ڈی آئی جی کوئٹہ نے، جو تحقیقات کی سربراہی کر رہے تھے، وزیر اعلیٰ کے بیان کی نفی کی۔

سماعت کے دوران موجود ایڈووکیٹ جنرل اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں سے کہا گیا کہ وہ ڈی آئی جی کے اس بیان سے اگر متفق نہیں تو پوچھ گچھ کریں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسی روز شام کو حکومت بلوچستان کے 'ترجمان' نے مقامی ٹی وی چینل دنیا نیوز پر وضاحت کی کہ وزیر اعلیٰ کے الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا اور وہ 'ماسٹر مائنڈ' نہیں بلکہ 'سہولت کار' کہنا چاہتے تھے جو گرفتار کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے متن کے مطابق اس وضاحتی بیان کی ریکارڈنگ ڈی آئی جی کو دکھائی گئی جن کا کہنا تھا کہ 'نہ تو کوئی ماسٹر مائنڈ اور نہ ہی سہولت کار یا کوئی اور گرفتار کیا گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایڈووکیٹ جنرل اور حکومت بلوچستان کے نمائندوں سے ایک مرتبہ پھر کہا کہ وہ اگر وہ اس پر متفق نہیں ہیں تو ڈی آئی جی سے پوچھیں لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

انھیں وزیر اعلیٰ یا ترجمان کو کمیشن کے سامنے بیان دینے کی پیشکش بھی کی گئی لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان بیانات کی وضاحت پر وقت کا ضیاع ہوا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ حکومت بلوچستان کے بعض اراکین کا سچائی کے ساتھ کمزور تعلق کا اظہار ہوا ہے۔ ان بیانات کی وجہ سے وزیر اعلیٰ اور ترجمان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔

اس کے بعد پانچ دسمبر کو جب وزیر داخلہ نے ایک اخباری کانفرنس میں پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے دعویٰ کیا تو اُس کو میڈیا نے کوریج نہیں دی۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا پہلا نشانہ سچائی ہوتی ہے لیکن حکومتی اراکین کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بھی یہی روش اختیار کریں۔

کالعدم تنظیموں کے بیانات کی کوریج سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹھ دسمبر کو روزنامہ جنگ نے این این آئی نیوز ایجنسی کی ایک خبر شائع کی جس میں لشکر جھنگوی العالمی کے ترجمان کا یہ بیان تھا کہ ان کے ساتھیوں کو ہرمزئی میں مقابلے میں نہیں بلکہ گرفتاری کے بعد قتل کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کمیشن کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ خبر شائع ہوئی ہے لہٰذا اس پر بات کرنا ضروری ہے۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ جب اس نے وزیر اعلیٰ اور ترجمان کے بیانات کا عوامی سطح پر تعین کر دیا تھا کہ تو این این آئی کو لشکر جھنگوی کے بیان کو جاری نہیں کرنا چاہیے تھا اور نہ ہی اخبار کو خبر شائع کرنی چاہیے تھی۔

رپورٹ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے نومبر 2016 کو لشکر جھنگوی العالمی کو کالعدم قرار دیا تھا لہٰذا انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت اس کے خیالات کو پرنٹ کرنا، شائع کرنا یا تقسیم کرنا قابل سزا جرم ہے۔ تاہم چونکہ یہ خبر حقائق پر مبنی نہیں لہٰذا شاید اس پر اس قانون لاگو نہ ہو۔

کمیشن نے اسے بری صحافت قرار دیتے ہوئے شکایت کی کہ صحافیوں نے اس خبر کی اشاعت سے قبل تصدیق کی کوئی کوشش نہیں کی۔

'انھوں نے وہ چھاپ دیا یعنی جھوٹ جو دہشت گردوں نے انھیں لکھایا۔ انھوں نے ان شہدا کا بھی خیال نہیں کیا جو ان دہشت گردوں نے ہلاک کیے۔ صحافیوں میں انسانی جانوں کے لیے احساس کا فقدان اور ہمدردی کی نہ ہونا ناقابل بیان ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں