نو سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری 15 مارچ سے شروع کرنے کا اعلان

پاکستانی افراد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1997 میں ہوئی تھی۔ اس طرح اب یہ عمل 20 سال بعد دوبارہ ہوگا

پاکستان کی حکومت نے نو سال کی تاخیر کے بعد ملک میں مردم شماری آئندہ برس 15 مارچ سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعے کو وزیرِ اعظم نواز شریف کی صدرات میں منعقد ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ کو پاکستان میں مردم شماری نہ ہونے پر تشویش

پاکستان میں مردم شماری موخر کرنے کا فیصلہ

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکومت پر شدید دباؤ ڈالا تھا جس کے بعد اس تاریخ کا اعلان کیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا کہ مردم اور خانہ شماری اکٹھی کی جائے گی۔ اجلاس کے بارے میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری دو مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔

پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔ اس طرح اب یہ عمل 19 سال بعد دوبارہ ہوگا۔

ملک میں مردم شماری کے عمل پر تاخیر کی وجہ سے بلوچستان میں پشتونوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ چونکہ فوج کئی محاذوں پر سرگرم تھی اس لیے وہ مردم شماری کے عمل کے تحفظ کے لیے فوجی فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

حکومت پر مردم شماری کے انعقاد میں طویل تاخیر پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک بھی تنقید ہوئی تھی۔

اقوام متحدہ کی نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق کمیٹی نے گذشتہ دنوں پاکستان میں مردم شماری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی وجہ سے ملک کی آبادی کی نسل کی بنیاد پرتازہ ترین تفصیل حاصل نہیں ہو سکی۔

جنیوا میں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے کوششوں کی رپورٹ کے جائزہ کے بعد اپنی رپورٹ میں کمیٹی نے پاکستان میں جلد از جلد اہم مردم شماری کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں