سندھ حکومت جبری مذہب کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار

جبری مذہب کی تبدیلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے جبری مذہب کے قانون پر نظر ثانی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تبدیلی مذہب کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ بل نو عمر شادی کی روک تھام کے لیے تھا۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ اسلام اور قرآن جبری مذہب کی تبدیلی میں یقین نہیں رکھتے۔'اس قانون کی وجہ سے کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، یہاں شادی کے لیے عمر از کم 18سال مقرر ہے جو قانون میں پہلے سے موجود ہے۔'

سندھ اسمبلی سے قانون منظور ہونے کے بعد یہ قانون گورنر سندھ کے پاس منظوری کے لیے موجود ہے۔

سینئیر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اگر گورنر اس قانون کو منظور کرتا ہے یا نظر ثانی کے لیے واپس کرتا ہے دونوں صورتوں میں اس ابہام کو دور کرنا ضروری ہے۔

اقلیتی برادری کے تحفظ کا یہ قانون سول سوسائٹی کی کوششوں سے تیار کیا گیا تھا جو مسلم لیگ فنکشنل کے رکن نند کمار گوکلانی نے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش کیا جس پر کئی ماہ غور و فکر کے بعد اسمبلی کی پچھلے سیشن میں 24 نومبر کو منظور کیا گیا۔

بل کی منظوری کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سمیت دیگر اراکین اسمبلی نے اس کو ایک اہم کامیابی قرار دیا تھا۔

سینئیر صوبائی وزیر نثار کھوڑ کا کہنا ہے کہ یہ پرائیوٹ بل ایک ممبر نے پیش کیا تھا یہ حکومت کی طرف سے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بل پر نظرثانی کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔

سندھ میں جمعیت علما پاکستان، جمعیت علما اسلام، جماعت اسلامی، سنی تحریک، تنظیم اسلامی اور جماعۃ دعوۃ سے لےکر تمام مسالک کی مذہبی جماعتوں نے سندھ اسمبلی کے قانون پر شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا اور اس کے خلاف احتجاج اور کل جماعتی کانفرنسیں منعقد کی گئی تھیں۔

سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت قانون کی 'وضاحت' کسی دباؤ میں نہیں کر رہی۔ انھوں نے کہا 'ہمارا قانون حرف آخر نہیں ہوتا، آئین میں ترمیم ہوتی ہے تو قانون میں بھی وضاحت ہوتی ہے۔'

اقلیتوں کے تحفظ کے اس قانون میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی صغیر (کم سن) یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کرلیا ہے تو اس کی دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ تاہم صغیر کے والدین یا کفیل اپنے خاندان کے سمیت مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذہب کی جبری مختلف حوالوں سے ہوگی اس کو صرف جبری شادی یا جبری مشقت تک محدود نہیں سمجھا جائے گا۔

اس قانون کے مطابق اگر کسی کا جبری مذہب تبدل کرنے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ملزم کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اور یہ جرمانہ متاثرہ فریق کو دیا جائے گا۔

سینئیر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ہمارا مذہب کسی کو بھی مذہب تبدیل کرنے سے نہیں روکتا وہ کسی بھی عمر کا ہو۔ 'اگر کسی نہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچی سے شادی کی یا کرائی تو وہ سہولت کار بن جائیگا اور قانون کے منافی کام کرنے والا بھی بن جائےگا۔'

اسی بارے میں