غیرت کے نام پر قتل یا خودکشیاں ؟

Image caption صائمہ منیر کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس اس معاملے میں خصوصی دلچسپی نہیں لیتی اور موثر تفتیشی نظام نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک اس قسم کے واقعات کا روکنا ناممکن نظر آتا ہے۔

’پاکستان میں ملاکنڈ ڈویژن اور بالخصوص وادی سوات میں نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو خودکشیوں کا رنگ دے کر یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے اور جسے فوری طور پر قابو کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اس کو روکنے میں پولیس سب سے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔‘

ان خیالات کا اظہار سوات یونیورسٹی میں بی بی سی اردو کی خصوصی سیریز ’قتل و غیرت‘ کے سلسلے میں منعقدہ ایک مباحثے میں کیا گیا۔

’خودکشی یا قتل، کیا سوات میں خود کشی کی آڑ میں خواتین کو قتل کیا جارہا ہے؟‘ اس موضوع پر منعقدہ اس مباحثے میں سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کی میزبانی بی بی سی کی سنئیر پروڈیوسر عنبر خیری نے کی۔

مباحثے میں مہمان کی حیثیت سے شریک عورت فاؤنڈیشن پشاور کی اعلیٰ اہلکار صائمہ منیر نے کہا کہ گذشتہ تین برسوں میں ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں نام نہاد غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے کے واقعات میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن دوسری طرف عورتوں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انھوں نے پچھلے تین برسں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ سنہ 2013 میں 17 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا لیکن اسی سال 71 خواتین کے خودکشیوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح سنہ 2014 اور سنہ 2015 میں 118 خواتین کو غیرت کے معاملے پر مارا گیا لیکن دوسری طرف ان دو برسوں میں 207 خواتین کو خودکشیوں کے نام پر دفن کیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کم نہیں ہوئے بلکہ اس نے ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کیا ہے اور ایسے واقعات میں پولیس تفتیش بھی نہیں کرتی جس سے باآسانی سارا معاملہ دفن ہوجاتا ہے۔

صائمہ منیر کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس اس معاملے میں خصوصی دلچسپی نہیں لیتی اور موثر تفتیشی نظام نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک اس قسم کے واقعات کا روکنا ناممکن نظر آتا ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومتی نمائندے اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن شوکت علی یوسفزئی نے تسلیم کیا کہ عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرنا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے جسے روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ پہلے پولیس ایسے معاملات میں دلچپسی نہیں لیتی تھی لیکن جب سے صوبے میں نیا پولیس آرڈنینس نافذ کیا گیا ہے اس کے بعد سے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نئے پولیس ایکٹ میں ایسے جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہے لہٰذا اب یہ عوام اور متاثرہ افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ آگے آئیں اور ان جرائم کی رپورٹ درج کروائیں۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں خواتین کے خلاف ایسا کوئی امتیازی قانون پاس نہیں کیا گیا بلکہ خواتین کے حقوق ہمیشہ سے ان کی ترجیح رہی ہے۔

Image caption شعبہ مائیکروبائیولوجی کی ایک خاتون لیکچرر نے کہا کہ انھیں بچپن سے گھر میں یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ مرد طاقتور اور اعلی ہے لہٰذا خواتین کو ان کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔

شرکاء میں موجود سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تعلیم کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو خواتین کے حقوق کے بارے میں علم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ملک کے کونے کونے تک معیاری تعلیم کی روشنی نہیں پہنچی ہوگی اس وقت تک خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کم نہیں ہوسکتے۔

شعبہ صحافت کے ایک طالب علم برکت نے کہا کہ آئین پاکستان میں خواتین اور مردوں کے تمام حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے لیکن بدقسمتی سے ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا، اسی وجہ سے معاشرے میں ایک بگاڑ کی کفیت موجود ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے شعبہ مائیکروبائیولوجی کی ایک خاتون لیکچرر نے کہا کہ انھیں بچپن سے گھر میں یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ مرد طاقتور اور اعلی ہے لہٰذا خواتین کو ان کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔

یونیورسٹی کے ایک لیکچرر سجاد علی نے کہا کہ ثقافتی حساسیت اور اخلاقیات کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں کمی آسکے۔

جرنلزم ڈیپارٹمینٹ کے طالب علم فاروق خان نے کہا کہ ملک میں خواتین سے متعلق قوانین کی شدید کمی پائی جاتی ہے اور جو قوانین پہلے سے موجود ہیں وہ غیر موثر ہیں اسی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے۔

یونیورسٹی کے شعبہ تعلقات عامہ کے اہلکار آفتاب نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ایسا علاقہ ہے جہاں تشدد کو صرف موثر تعلیم کے ذریعے سے روکا جا سکتا ہے لہٰذا اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں