سمانہ، تاریخی سیاحتی مقام سے نقل مکانی

سمانہ

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع تاریخی مقام سمانہ سیاحت کا ایک مشہور مرکز سمجھا جاتا ہے لیکن پسماندگی اور پانی کی شدید قلت کے باعث یہاں کی مقامی آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوگئی ہے۔

سطح سمندر سے تقریباً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سمانہ ضلع ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کا ایک چھوٹا سا سرحدی اور تاریخی گاؤں ہے۔ اس علاقے کے حدود کچھ اس طرح قائم ہے کہ ایک سرا اورکزئی ایجنسی کا حصہ ہے تو دوسرا حصہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں آتا ہے۔

سمانہ پشتو زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ناہموار۔ چونکہ یہ علاقہ بیشتر پہاڑی سلسلوں یعنی ناہموار پہاڑوں پر مشتمل ہے اسی وجہ سے اس کا نام بھی سمانہ پڑگیا ہے۔

Image caption ہندوستان کی حکومت نے سمانہ کے مقام پر ان سکھ سپاہیوں کی یاد میں ایک یادگار بھی تعمیر کرائی تھی

قدرت کی حسین نظاروں پر مشتمل یہ علاقہ ضلع کوہاٹ اور ہنگو کے لوگوں کے لیے ایک خوبصورت سیاحتی مقام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں گرمیوں میں ہر سال ہزاروں سیاح ٹھنڈے موسم کا مزہ لینے جاتے ہیں۔

تاہم کچھ عرصہ سے اس علاقے میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ دیگر بنیادی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی وجہ سے مقامی آبادی نے قریبی علاقوں کی طرف نقل مکانی شروع کررکھی ہے۔

ہنگو میں مقیم سمانہ کے ایک رہائشی مشل خان نے کہا کہ سمانہ ایک چھوٹا خوبصورت گاؤں ہے جہاں کی آبادی کا زیادہ تر دارومداد پہاڑی مقامات پر واقع چشموں پر ہے لیکن کچھ سالوں سے بارشوں میں کمی کی وجہ سے یہ چشمے خشک ہورہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پانی کی قلت کے باعث سمانہ سے سینکڑوں خاندانوں نے ہنگو اور دیگر مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے اور مزید خاندان بھی علاقے سے نکلنے کی سوچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سمانہ کی مرکزی سڑک انگریزوں کے دور میں تعمیر ہوئی تھی جس کے بعد سے اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے جبکہ سڑک کی بدحالی کے باعث اکثر اوقات حادثات پیش آتے ہیں جس میں کئی افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

سمانہ سیاحتی مقام کے ساتھ ساتھ اسکی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ پہاڑی مقام انگریزوں کا ایک مسکن تھا جہاں سے برطانوی افواج نے افغانستان پر نظر رکھنے اور قبائل کو کنٹرول کرنےکے لیے تین بڑے بڑے تاریخی قلعے تعمیر کیے تھے جس کی بوسیدہ عمارتیں آج بھی اس طرح قائم ہیں۔

ان قلعوں میں سرہ گڑھی، فورٹ لوکارٹ اور گلستان قابل ذکر ہے۔ ان میں ایک قلعہ ختم ہوچکا ہے جبکہ دو قلعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔

سمانہ میں سرہ گڑھی کے مقام پر سنہ 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین ایک تاریخی لڑائی بھی ہوئی تھی جس میں برطانوی انڈین آرمی کی طرف سے لڑتے ہوئے سکھ ریجمنٹ کے 21 سکھ سپاہیوں نے دس ہزار سے زائد قبائلیوں کا مقابلہ کیا تھا۔ مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس لڑائی میں ہلاک ہونے والے تمام 21 سپاہیوں کا تعلق سکھ کمیونٹی سے تھا اور ان سپاہیوں کے بہادری کے قصے پاکستان اور ہندوستان میں بسنے والے سکھوں کو آج بھی یاد ہے۔ اس تاریخی واقعے پر کئی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔

ہندوستان کی حکومت نے سمانہ کے مقام پر ان سکھ سپاہیوں کی یاد میں ایک یادگار بھی تعمیر کرائی ہے جس پر سرہ گھڑی لڑائی میں ہلاک ہونے والے تمام سپاہیوں کے نام اور رینک نمبر درج ہیں۔

سمانہ کے ایک اور رہائشی طارق خان کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 میں جب اورکزئی ایجنسی میں شدت پسند تنظیمیں ابھریں تو دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی شدت پسندوں کا اثر رسوخ بڑھا جس سے سیاحتی سرگرمیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اب علاقے میں مکمل امن قائم ہے لیکن پسماندگی کی وجہ سے سیاحتی سرگرمیوں بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

Image caption سمانہ میں سرہ گڑھی کے مقام پر سنہ 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین ایک تاریخی لڑائی بھی ہوئی تھی

تقریباً پچاس چھوٹے بڑے دیہات پر مشتمل سمانہ کی بیشتر آبادی کی روزگار کا انحصار خلیجی ممالک میں محنت مزدوری پر ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں ایسی کوئی فصل کاشت نہیں ہوتی جس سے مقامی آبادی کا گزربسر ہوں۔

علاقے میں سرکاری سکولوں اور صحت عامہ کے اداروں کی بھی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ یہاں کچھ ایسے سکول بھی قائم ہے جو انگریزوں کے وقت تعمیر کئے گئے تھے لیکن اب اسکی حالت انتہائی ابتر ہے۔ علاقے میں لڑکیوں کا ایک ہائی سکول واقع ہے جو کچھ عرصہ سے غیر فعال ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے یہاں سیاحت پر سنجیدگی سے توجہ دی گئی تو یہاں کے عوام کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں