’پاکستان واقعی ایک حیران کن ملک ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
امریکی شہری کیسنڈرا ڈی پیکول تن تہا دنیا کے سفر پر ہیں اور 190 ممالک کا سفر طے کرنے بعد وہ پاکستان پہنچی ہیں

امریکی شہری کیسنڈرا ڈی پیکول تن تنہا دنیا کے سفر پر ہیں اور 190 ممالک کا سفر طے کرنے بعد وہ پاکستان پہنچی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 'پاکستان ایک چھپا ہوا جوہر ہے جس کی خوبصورتی تاحال دنیا کے سامنے نہیں آسکی‘۔

27 سالہ امریکی خاتون کیسنڈرا ڈی پیکول نے 15 جولائی 2015 کو دنیا کے تمام 196 خودمختار ممالک دیکھنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔

ان کا پہلا پڑاؤ مغربی بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے ملک پلاؤ میں ہوا اور ان کا سفر مسلسل جاری رہا اور 190 ممالک کا سفر کرنے کے بعد وہ پاکستان پہنچیں۔

ان کا مقصد کم از کم وقت میں تمام ممالک کا سفر کرکے گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنا اور دنیا کو سیاحت کے لیے پرامن اور اس شعبے کو مستحکم بنانے کا پیغام دینا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان آنے سے قبل ان کے کچھ خدشات تھے جو اب دور ہوچکے ہیں اور وہ دوبارہ یہاں آنا چاہیں گی۔'

'دنیا کے 190 ممالک گھومنے کے بعد میں کہہ سکتی ہوں کہ جن تین ممالک نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان پاکستان، اومان اور بھوٹان سرفہرست ہیں۔'

کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیان نہیں سنا لیکن ان کا ذاتی تجربہ ہے کہ 'پاکستان واقعی ایک حیران کن ملک ہے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کے لوگ اور یہاں کی ثقافت انتہائی خوبصورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Expedition196

کیسنڈرا ڈی پیکول کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد تمام دنیا میں امن کا پیغام پہنچانا ہے۔ وہ ایک مسافر بھی ہیں اور سیاحت و سفر کے حوالے سے نوجوانوں کو تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ 'پاکستان آنے سے پہلے میں نے اس ملک کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور تحقیق کی لیکن جو کچھ میڈیا دکھاتا ہے پاکستان اس کے بالکل برعکس ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنا برقع اور عبایا بھی ساتھ رکھا ہوا تھا کہ پاکستان میں اس کی ضرورت ہوگی لیکن ابھی تک اس کی ضرورت پیش نہیں ہے۔'

پاکستانی خواتین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں قیام کے دوران میں بہت سی نوجوان خواتین سے ملی اور مجھے ان کی قابلیت اور اعتماد دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوا۔'

کیسنڈرا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان کی شمالی علاقہ جات اور چھوٹے شہروں اور قصبوں کو دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اس بار یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان دوبارہ آئیں گی اور اپنی یہ تمنا پوری کریں گی۔

پاکستان میں ان کا قیام کراچی، لاہور اور پھر اسلام آباد میں رہا جہاں یونیورسٹی اور کالجوں کے طالب علموں کے ساتھ انھوں نے مختلف مذاکروں میں حصہ لیا اور انھیں بتایا کہ کیسے اپنے ملک کو اچھے انداز میں پیش کیا جاسکتا اور ایک کامیاب سیاحتی لکھاری بننے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انڈیا کا بھی سفر کیا ہے اور انھوں نے پاکستان کو انڈیا کی ثقافت، رنگ اور انداز زندگی کو بہت مخلتف پایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Expedition196

انھوں نے بتایا کہ بلاشبہ سیاحت ایک مہنگا شعبہ ہے لیکن آپ پیسے بچاتے ہوئے بھی کئی نئی جگہوں کی سیر کرسکتے ہیں۔

'ایسا نہیں ہے کہ آپ جہاں جائیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہیں یا پرآسائش گاڑیوں میں سفر کریں۔ آپ ضرورت کے مطابق کسی کم قیمت جگہ پر قیام کر سکتے، وہی کھا سکتے ہیں جو وہاں عام لوگ کھاتے ہیں، ویسے ہی سفر کر سکتے ہیں جیسے مقامی عام لوگ کرتے ہیں۔'

اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تقریبا 25 ممالک کا دورہ صرف 2000 ڈالر میں کیا۔ اس دوران وہ ٹرین سٹیشنوں پر سوئیں، بغیر کھائے پیے رہیں اور 'ہچ ہائیکنگ' کرتی ہوئی مشرق وسطیٰ، افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں گھومیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب نوجوان بلاگروں اور سیاحت کے حوالے سے لکھنے والوں کے لیے بہت سے دروازے کھل گئے ہیں جن کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ ان کا اگلی منزل افریقی ملک ارٹیریا ہے اور وہ جلد جنگ زدہ یمن کے سفر پر ہوں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں