ایک اور اداس نسل!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1971 کے مناظر

جب سے ہوش سنبھالا، یہی دیکھا کہ سال کا آخری مہینہ ایک عجیب وحشت اور ویرانی لیے آتا۔ کھیتوں پہ کہرا لوٹتا، باغ کی روشوں پہ خشک پتے چرچراتے۔ برآمدے میں رہنے والے کئی کبو تر، ناندوں میں رکھا، رات کا ٹھنڈا پانی پی کر مر جاتے۔ وہ بڑے بوڑھے جو لگتا تھا، وقت کی طنابیں تھامے بیٹھے ہیں ، اکثر اسی مہینے میں گزر جاتے تھے۔

آتش دان میں جلتی آگ بھی ایک عجیب ویرانی کا منظر پیش کرتی تھی اور سب سے بڑھ کر سب خاندان کے بوڑھے جانے کیا عجیب سرگوشیاں کرتے تھے،جن میں مجیب الرحمٰن ، یحییٰ خان اور بھٹو صاحب کے نام بار بار لیے جاتے تھے۔ بڑی بوڑھیاں، اندھیرے سویرے، جانے کس کا غم منانے کو آنسو پونچھتی اور نیازیں دیتی نظر آتیں۔

سمجھ نہیں آتی تھی کون مر گیا؟ کس کی برسی ہے؟ پھر 18 دسمبر کی رات ابو کے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا تھا اور وہ دہاڑیں مار مار کے اتنا روتے تھے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی تھی، روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے،' آج میرا بازو کٹ گیا۔ '

حیرت اس بات پہ ہوتی تھی کہ ان کا بازو، ہاتھ پاؤں سر وغیرہ سب درست حالت میں ہوتے تھے۔ میں خواہ مخواہ مجرم سی بن جاتی تھی، اور باقی دسمبر دکھی شاعری سنتے ہوئے گزار دیتی تھی۔

وقت کے ساتھ ان نوحوں میں بہاریوں کا احوال، اپنوں کے ستم اور غیروں کے کرم بھی سنائی دینے لگے۔

اس وقت لگتا تھا کہ ارے، کتنے بے وقوف ہیں ہمارے بڑے، روٹھوں کو منایا جا سکتا تھا، بات تو کچھ اتنی بڑی نہ تھی سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ پھر ہوتے ہوتے یہ خیال راسخ ہونے لگا کہ بھئی، ان کی مرضی، وہ آزادی چاہتے تھے مل گئی۔ اب بھول بھی جاؤ۔ مگر وہ نسل جب تک زندہ رہی، ہر دسمبر یہ ماتم ان کا مقدر تھا، ان میں سے جو لوگ اب بھی باقی ہیں وہ اس اذیت میں زندہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑی جانے والی اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان تقسیم ہوا اور بنگلہ دیش بنا

ایک نسل کے دکھ، دوسری نسل کو ورثے میں ملتے ہیں۔ دسمبر کے آتے ہی سارا پاکستان، دکھی سا ہو جاتا ہے۔ چونکہ بنگال کی علیحدگی ہماری نسل کا دکھ نہ تھی اس لیے، سارا ملبہ معشوق پہ ڈال دیا جاتا تھا۔ کسی بھی موسم میں بچھڑنے والوں کو یاد کرنے اور ان کی بے وفائی کا طعنہ دینے کو دسمبر ہی مناسب مہینہ لگتا تھا۔ حالانکہ ساری دنیا اس مہینے اتنی خوشیاں مناتی ہے کہ پورے سال کے لیے کافی ہوتی ہیں۔

چند سال سے میں ہر اس شخص کا ٹھٹھا اڑا رہی تھی جو دسمبر میں دکھی ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ شاید یہ اس دکھ سے لڑنے کی کو شش تھی جو ہماری نسل کا بھی مقسوم تھا۔ 16 دسمبر کی صبح جو کچھ پیش آیا اس نے مجھے میرے عہد سے کاٹ کے وہاں لے جا کے کھڑا کر دیا ، جہاں پاکستان آنے والے قافلے کٹ رہے تھے، اور دسمبر 1971 میں جہاں چند روٹھے ہوؤں کو سنگین کی نوک میں پرویا جا رہا تھا۔ تاریخ کا وہ صفحہ، جس کا ہر لفظ خون سے چپچپا تھا، ہمارے سامنے بھی کھل گیا۔

سانحہ پشاور میں جاں بحق ہونے والے ہر بچے میں مجھے اپنے بچوں کی شکل نظر آئی۔ کتنے ماہ میں سو نہ پائی۔ اٹھ اٹھ کر سوتے ہوئے بچوں کو چومتی تھی اور روتی تھی، یہ جانے بغیر کہ اس وقت میں بھی اپنے باپ کی طرح ایسی حرکتیں کر رہی ہوں جن کو کل میرے بچے دیوانگی سے تعبیر کریں گے۔

بچوں کو سکول چھوڑ کر ، چھٹی تک باہر کھڑی رہتی اور ہر آتے جاتے کو مشکوک نظروں سے گھورتی۔ چند ماہ میں زندگی قریباً معمول پہ آگئی، مگر پچھلے سال دسمبر شروع ہوتے ہی میں بولائی بولائی پھرنے لگی۔ اے پی ایس میں مارے جانے والے ایک ایک بچے کی نیاز دینے لگی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کو کسی دعا کی حاجت نہیں۔ دسمبر گزارے نہیں گزرا اور 17 دسمبر کو میں بھی ابو کی طرح روئی۔

آج پھر دسمبر کی وہی منحوس تاریخ ہے۔ مجھے ان فرشتوں جیسے بچوں کے چہرے یاد ہیں، باچا خان یونیورسٹی، کوئٹہ کیڈٹ سکول اور سینکڑوں دیگر سانحے یاد ہیں۔ میں بھی اپنے بڑوں کی طرح سوائے نالہ و شیون کے کچھ نہیں کر سکتی۔

بہت ممکن ہے میرے بچے بھی یہ ہی سوچتے ہوں، کتنی بے وقوف نسل ہے ہمارے بڑوں کی، یوں کر لیتے تو یوں ہو جاتا، ووں کر لیتے تو ووں ہو جاتا۔ آخر ضرورت ہی کیا تھی کسی کی آگ کو اپنے صحن میں بھڑکانے کی؟ ہماری طرح یہ بھی نہیں جانتے کہ احمق قومیں تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتیں صرف پچھلی نسلوں کا ناسٹیلجیا اور غلط وقت پہ غلط فیصلہ کرنے کی وراثت پاتی ہیں اور زمانے کی راہداریوں میں اپنے پیاروں کے نوحے کرتی ، سر میں خاک ڈالتی نظر آتی ہیں۔ ان کے دکھوں کی گٹھڑی ہر گزرتی نسل کے ساتھ بھاری ہوتی جاتی ہے اور یہ گٹھڑی ان کو اٹھانی ہی ہوتی ہے۔

عبداللہ حسین نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ایک ریلوے اسٹیشن پہ لوگوں کو مرتے کٹتے دیکھا، وہ کہتے تھے، ہم اس دن کے بعد کبھی خوش نہیں ہو سکے۔ وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہم بھی اب کبھی خوش نہیں ہو سکتے۔ اس روز 130 بچے قتل نہیں ہوئے تھے، ہماری نسل کی ہنسی قتل ہوئی تھی، اور وہ نسل ،جس کی ہنسی قتل ہوجائے ایک اداس نسل ہوتی ہے، ایک اور اداس نسل!

متعلقہ عنوانات