اے ٹی آر کا صدقہ

Image caption پی آئی اے کے اے ٹی آر 72 طیارہ

پی آئی اے ان دنوں ریڈار پر ہے اور اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کے طیارے میں کوئی بال برابر بھی مسئلہ نظر آئے تو میڈیا اس پر پورٹ کرتا ہے۔

اسی طرح گذشتہ دو دن سے پی آئی اے کے ایک طیارے کے سامنے بکرے کے صدقہ دینے کی تصویر خوب شیئر کی جارہی ہے۔

پی آئی اے کا یہ طیارہ اے ٹی آر کے بیڑے میں سے پہلا ہے جسے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تمام جانچ پڑتال کے بعد پرواز کے لیے کلیئر کیا تھا جس کے بعد مقامی انجینیئرز نے کالے بکرے کا صدقہ دیا۔

سوشل میڈیا پر جس انداز میں اس سارے معاملے کو اکثریت نے تضحیک کا نشانہ بنایا وہ تو یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس میں عقائد اور صدقے کے حوالے سے جو باتیں کی گئیں وہ یہاں نہیں لکھی جا سکتیں مگر اس پر انجنیئرنگ کے حوالے سے دلچسپ تبصرے بھی سامنے آئے۔

ندیم فاروق پراچہ نے لکھا 'کہ اب پرواز پر مٹن ملے گا' جبکہ کرسٹین رور نے لکھا 'طیارے کے حادثے کے بعد پی آئی اے کا سٹاف کچھ بھی چانس پر نہیں کرنا چاہتا طیارے کے کلیئر ہونے کے بعد پروازوں سے پہلے کالے بکرے کا صدقہ دیا گیا ہے۔'

Image caption اے ٹی آر طیارے کا اندرونی منظر

جب پی آئی اے کے ترجمان سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بکرا صدقہ کرنے کا عمل مقامی عملے نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ صدقہ پرواز سے قبل کیا گیا تھا تو دانیال گیلانی نے بتایا کہ 'بکرے کا صدقہ عملے نے پہلے اے ٹی آر کےشیک ڈاؤن ٹیسٹ سے کلیئر ہونے کے بعد شکرانے کے طور پر دیا، جس کے کئی گھنٹے بعد طیارے نے پہلی پرواز کی۔ اور یہ جو تاثر دیا جا رہا ہے کہ طیارے میں مسافروں کے سوار ہونے سے قبل یہ سب کچھ کیا گیا یہ بالکل غلط ہے۔ یہ صدقہ طیارے کے ہینگر کے قریب دیا گیا جو کہ ان جالیوں سے واضح ہے جو نظر آ رہی ہیں رن وے یا ٹارمیک پر ایسی جالیاں نہیں ہوتیں۔'

تاہم مذہبی رسومات کا معاملہ نیا نہیں دنیا بھر میں نئے طیاروں اور سروسز سے پہلے دعائیہ تقریبات ہوتی ہیں جن میں مذہبی شخصیات آ کر طیاروں کو آشیرباد دیتے ہیں یا دعا کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Air India
Image caption ایئرانڈیا کے پہلے بوئنگ ڈریم لائنر طیارے کے انڈیا پہنچنے پر ایئرلائن کی انتظامیہ طیارے کے اگلے لینڈنگ گیئر کے سامنے پوجا کر رہی ہے۔

پی آئی اے ہی کے ایک بوئنگ سیون تھری سیون طیارے کے بارے میں قصہ مشہور ہے کہ اس کو مختلف مسائل کا سامنا رہتا تھا جس کے مختلف حل سوچے گئے تبدیلیاں بھی کی گئیں اور اس سب کے ساتھ ساتھ ایک عدد بکرا طیارے کے چرنوں میں قربان کیا گیا۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ اس طیارے کی رجسٹریشن کو بھی تبدیل کیا گیا اور AP-BCE سے بدل کر AP-BFT کر دیا گیا۔

کہتے ہیں کہ اس بعد طیارے کے مسائل کافی حد تک کم ہوئے گئے اور بلآخر یہ طیارے خیروعافیت سے ریٹائر ہو گیا۔

مگر سوال یہ ہے کہ صدقے تو پہلے بھی ہوتے تھے ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ اے ٹی آر کے صدقے کی تصویر بنا کر شیئر کی گئی اور پھر یہ میڈیا کے ہاتھ آگئی جس نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

پی آئی اے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ کمپنی اندرونی طور پر تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا بکرا اور ذبح کرنے کے لیے چھری حساس مقام پر لیجانے کے لیے ضابطے کی کارروائی کی گئی یا نہیں۔'

اسی بارے میں