قومی اسمبلی میں پاناما لیکس پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ آرائی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کوئٹہ حملے پر کمیشن کی رپورٹ پر وزیر داخلہ چوہدری نثار منگل کو قومی اسمبلی میں بیان دیں گے

پاکستان کی قومی اسمبلی میں پاناما لیکس سے متعلق بحث پر اجلاس میں پیر کو پھر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف پارلیمان میں آ کر اپنی صفائی پیش کریں۔

جبکہ کوئٹہ حملے پر کمیشن کی رپورٹ پر وزیر داخلہ چوہدری نثار منگل کو قومی اسمبلی میں بیان دیں گے۔

دو گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس کی صدارت سپیکر ایاز صاق نے کی۔

قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم نے جو موقف پارلیمنٹ میں اختیار کیا اس میں قطری شہزادے کا ذکر نہیں تھا۔ اس لیے قطری شہزادے کے خط کے بعد پیدا شدہ ابہام کو دور کرنے کے لیے وزیراعظم کی وضاخت ضروری ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’جب تک وزیراعظم ایوان میں آکر وضاحت نہیں کرتے تحریک انصاف کی تسلی نہیں ہوگی۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا ’وزیراعظم ایوان میں آئیں اور بتائیں کہ حقیقت کیا ہے ۔ وزیراعظم کی ساکھ کا سوال ہے جب تک وہ وضاحت نہیں کرتے ہم تکرار اور مطالبہ کرتے رہیں گے۔‘

شاہ محمود قریشی کے بعد جب حکومتی وزیر خواجہ آصف نے شیخ رشید کے کچھ حقائق درست کیے تو جیسے ہی وہ بیھٹنے لگے تو پی ٹی آئی کے کارکنان نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ انھوں نے ’گلی گلی میں چور ہے نواز شریف چور ہے‘ اور ’گو نواز نواز گو‘ کے نعرے لگائے۔

جس پر خواجہ آصف نے کہا ’میں روز ایوان میں آتا ہوں اور عمران خان کا انتظار کرتا ہوں، اس پردہ نشین کو تو سامنے لاؤ۔‘

جس پر سپکر قومی اسمبلی نے شاہ محمود قریشی سے کہا کہ اجلاس سے پہلے یہی فیصلہ ہوا تھا کہ حزب اختلاف کی بات چیت کے بعد حکومتی اراکین کو بولنے کا موقع دیا جائے گا جس کی پی ٹی آئی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا دعویٰ تھا کہ وہ اجلاس کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے کہنے کے باوجود بھی پی ٹی آئی کے اراکین نعرہ بازی کرتے رہے۔ جس پر مسلم لیگ ن کے اراکین برہم ہو گئے اور بات تو تو میں میں تک جا پہنچی۔

شاہد محمود قریشی سے پہلے عوامی لیگ کے شیخ رشید نے اسمبلی میں بیان دیا۔

انھوں نے کہا آج تک کسی نے پاناما دستاویزات کو غلطی پر مبنی قرار نہیں دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا ’وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ ان کے پاس ثبوت ہیں جبکہ ان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں کہا کہ کوئی ثبوت نہیں ہیں۔‘

انھوں نے کہا عوام کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔

انھوں نے ’پارلیمینٹ میں آؤ پارلیمینٹ میں آؤ کہنے والے خورشید شاہ کو بھی ستائس کو پتہ چل جائے گا۔‘

جب سپیکر قومی اسمبلی نے حکومتی رکن دانیال عزیز کو بات کرنے کی اجازت دی تو ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے اراکین نے شور شرابا شروع کر دیا۔

پارلیمان میں پھر ’جواب دو جواب دو‘ کے نعرے لگنا شروع ہو گئے۔

جب حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے ماحول کو ساز گار بنانے کے لیے چند منٹ کے لیے بات کرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کے اراکین نے انھیں بھی بات نہ کرنے دی۔

ماحول ٹھنڈا ہونے پر خورشید شاہ نے کہا ’پہلے دانیال عزیز بات کریں میں ان کے بعد بات کرو گا۔‘

وزیر اعظم کے دفاع میں دانیال عزیز نے کہا کہ ’آپ وزیر اعظم کا پوچھ رہے ہیں پہلے یہ بتائں عمران خان کہاں ہیں۔‘

دانیال عزیز کی بات کے دوران پی ٹی آئی کی مداخلت چلتی رہی۔ جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کی شیریں مزاری کو تنبیہہ کی۔

دانیال عزیز کا مزید کہنا تھا ’تحریک انصاف کو وزیر اعظم سے ملنے کا بڑا شوق ہے، جب دو ہزاز اٹھارہ میں ٹکٹ مانگنے آئیں گے تب ان کی ملاقات وزیر اعظم سے کرا دیں گے۔‘

حزب اختلاف کے رہنما خورشید شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کھیل بھی کھلیں اور عدالتی کمیشن کو چیلنج کریں۔ عدالتی کمیشن کے جج کو آنکھیں دکھائی جارہی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں یہ سب کچھ پہلی بار ہو رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ یہاں کالعدم تنظیموں سے ملاقاتیں کی جاتی ہے۔

خورشید شاہ کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ’میں دو بار قومی اسمبلی کو نیشنل ایکشن پلان پر اور تین بار سینیٹ کو بریف کرچکا ہوں۔ کل مجھے موقع دیا جائے۔‘

اسی بارے میں