خواجہ سراؤں کی مردم شماری کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Lahore High Court
Image caption چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی حکومت کو آئندہ ماہ جواب پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ملک میں آئندہ برس ہونے والی مردم شماری کے عمل میں خواجہ سراؤں کی تعداد کے تعین کے لیے درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب مانگ لیا ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم مقامی وکیل شیزار ذکا کی درخواست کی سماعت پر جاری کیا ہے۔ اس درخواست میں خواجہ سراؤں کو مردم شماری کے عمل میں ملکی آبادی کا حصہ ظاہر نہ کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وفاقی حکومت کو آئندہ ماہ جواب پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

درخواست گزار وکیل نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے اندر جتنی مرتبہ بھی مردم شماری ہوئی ہے، خواجہ سراؤں کی تعداد کا کبھی بھی تعین نہیں کیا گیا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے آئندہ برس مارچ میں مردم شماری کرانے کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ مردم شماری لگ بھگ 18 برس کے وقفے کے بعد ہو رہی ہے۔

درخواست گزار وکیل شیزار ذکا نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ برس ہونے والی مردم شماری کے عمل میں خواجہ سرائوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا کہ خواجہ سرا نہ صرف پاکستان کے شہری ہیں بلکہ ملکی کا آبادی کا حصہ ہیں۔

شیزار ذکا ایڈووکیٹ نے دلائل میں اعتراض کیا کہ خواجہ سراؤں کی آبادی کا مردم شماری کے عمل میں تعین نہ کرنا بینادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی آئین کی نفی ہے۔

دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار نے واضح کیا کہ ملک میں خواجہ سراؤں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار نہیں ہیں۔ ان کے بقول مردم شماری کے عمل میں خواجہ سراؤں کی تعداد کا تعین کرنا ضروری ہے تاکہ ان مسائل کے حل اور انھیں قومی دھارے میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔

انھوں نے استدعا کی کہ خواجہ سراؤں کی تعداد کے تعین کے لیے انھیں مردم شماری کے عمل میں شامل کیا جائے۔ درخواست پر مزید کارروائی 9 جنوری کو ہوگی۔

اسی بارے میں